السلامُ علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
سـوال
*کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام اس مسٸلہ میں کہ زید اپنی زندگی میں اپنی پروپٹی کو اولاد میں کس طرح تقسیم کرےگا۔۔۔۔۔۔ زید ۔۔۔۔ اس کی بیوی ۔۔۔ دو لڑکا ۔۔۔ ایک لڑکی۔۔۔۔۔۔زید اپنے پاس کتنا رکھےگا اپنی بیوی کو کتنا دےگا اور بچوں کو کتنا کتنا دےگا۔۔۔براۓ کرم جواب عنایت فرماۓ کرم نوازش ہوگی۔*
السائل۔فقیر صلاح الدین بھلہاوی رضوی سیتامڑھی (بہار)
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجـــــوابـــــ: بعون الملک الوہابــــ
اگر زید چاہے اپنی باحیاتی زندگی میں اپنی اولاد کو حصہ دے سکتا ہے، اور سب کو برابر دے۔ اعلی حضرت علیہ الرحمہ فتاویٰ رضویہ میں ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں : مذہب مفتی بہ پر افضل یہی ہے کہ بیٹوں بیٹیوں سب کو برابر دے، یہی قول امام ابویوسف کا ہے اور للذکر مثل حظ الانثین۔(مرد کو عورتوں کے برابر حصہ ہے۔) دینا بھی جیسا کہ قول امام محمد رحمہ اللہ کاہے ممنوع وناجائز نہیں اگر چہ ترک اولٰی ہے۔
ردالمحتار میں علامہ خیرالدین رملی سے ہے : (الفتوی علی قول ابی یوسف من ان التنصیف بین الذکر والانثٰی افضل من التثلیث الذی هو قول محمد)
فتوٰی امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالی کے قول پر ہے کہ مرد اور عورت کو نصف نصف دینا، مرد کو دو اور عورت کو ایک، تین حصے بنانے سے بہتر ہے اور یہ تین حصے امام محمد رحمہ اللہ تعالیٰ کا مذہب ہے۔
(حاشیہ طحطاوی میں فتاوٰی بزازیہ سے ہے : الافضل فی هبة البنت والابن التثلیث کالمیراث وعند الثانی التنصیف وھو المختار)
بیٹی اور بیٹے کو ہبہ دینے میں تین حصے میراث کے طورپر افضل ہے۔ اور امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰی کے نزدیک نصف نصف دینا افضل ہے اور یہی مختار ہے۔بالجملہ خلاف افضلیت میں ہے اور مذہب مختار پر اولٰی تسویہ، ہاں اگر بعض اولاد فضل دینی میں بعض سے زائد ہو تو اس کی ترجیح میں اصلا باک نہیں۔
علامہ طحطاوی نے فرمایا: ( یکرہ ذٰلک عند تساویهم فی الدرجة کما فی المنح والنهدیة اما عند عدم التساوی کما اذا کان احدھم مشتغلا بالعلم لابالکسب لاباس ان یفضله علی غیرہ کما فی الملتقط ای ولایکرہ وفی المنح روی عن الامام انه لاباس به اذا کان التفضیل لزیادۃ فضل له فی الدین. الخ)
درجہ میں برابر ہونے کی صورت میں مکروہ ہے جیسا کہ منح اورہندیہ میں ہے لیکن مساوی نہ ہوں مثلا ایک علم دین میں مشغول ہے اور کسب نہیں کرتا تو اس کو دوسروں پر فضیلت دینے میں کوئی حرج نہیں ہے جیسا کہ ملتقط میں ہے یعنی مکروہ نہیں ہے۔اور منح میں ہے کہ امام صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ سے مروی ہے کہ جب دین میں فضیلت رکھتا ہو تو اس کو فضیلت دینے میں کوئی حرج نہیں ہے الخ۔
(( جلد 19 صفحہ 231))
واللـہ تـعـالیٰ اعـلـم بـالـصـواب
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کتبـــــــــــــــــــــہ
حـضـرت عـلامـہ ومـولانا مـفـتـی مـحـمّـد مـظہـر حسیـن سـعـدی رضـوی صـاحـب قـبلـہ مـدظـلـہ الـعـالـی والـنـورانـی،۔خـادم سعدی دار الافـتـاء،متوطن: نل باڑی، سـوناپـورہاٹ، اتـردیـناجـپـور، ویـسٹ بنـگال الہنـد
*📞رابـطـــہ کـــــــــــــریــں👇*
*📲+91 87939 69359*

