تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

DIobandi wahabi aur gair muqlid ko zakat dena kaisa hai........دیوبندی وہابی اور غیر مقلد کو زکوٰۃ دینا کیسا ہے؟؟

0

DIobandi wahabi aur gair muqlid ko zakat dena kaisa hai

دیوبندی وہابی اور غیر مقلد کو زکوٰۃ دینا کیسا ہے



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا کوئی شخص زکوۃ وفطرہ نہ ایسے شخص کو دے سکتا ہے جو دیوبندی ہو ہو حالانکہ وہ جانتا نہیں ہے کہ کیا دیوبندی ہے کیا سنی ہے اور غریب ہو تو کیا اس کو زکوۃ وفطرہ دے سکتے ہیں؟؟ 


سائل : محمد سلیم رضا  راجستھان

اـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وعلیکم السلام ورحمةاللّٰہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالیٰ

وہابی، دیوبندی، غیر مقلد ،شیعہ ضروریات دین کےمنکر ہیں جس کی بنا پر عرب وعجم کے سیکڑوں علمائے کرام و مفتیان عظام نے انہیں کافر و مرتد قرار دیا اور بالاتفاق فرمایا۔ 

من شك في كفره وعذابه فقد كفر۔ یعنی جو ان کے عقائد پر مطلع ہوتے ہوئے ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔

صورت مسئولہ میں ان لوگوں کو زکوٰۃ و صدقئہ فطر دینے سے زکوٰۃ صدقئہ فطر ادا بھی نہیں ہوگی۔ کیونکہ زکاۃ کا مصرف مسلمان فقیر ہے


 در مختار میں ہے : أماالحربي ولو مستأمنا فجميع الصدقات لا تجوز له اتفاقا۔ ترجمہ: اور حربی کافر اگرچہ امان لےکر دارالاسلام میں رہ رہا ہو اسے کوئی بھی صدقہ دینا بالاتفاق جائز نہیں

(ج 3 کتاب الزکاۃ، باب المصرف صفحہ 301)


تنویر الابصار میں ہے :(تملیک جزء مال عینہ الشارع من مسلم فقیر)(ج 3 کتاب الزکاۃ صفحہ 71/172)


فتاویٰ رضویہ میں ہے: ان کو دینا حرام ہے اور ان کو دئے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی،( جلد 10 صفحہ 290)


بہار شریعت جلد اول میں ہے: ذمّی کافر کو نہ زکاۃ دے سکتے ہیں ، نہ کوئی صدقۂ واجبہ جیسے نذر و کفّارہ و صدقۂ فطر  اور حربی کو کسی قسم کا صدقہ دینا جائز نہیں  نہ واجبہ نہ نفل، اگرچہ وہ دارالاسلام میں بادشاہِ اسلام سے امان لے کر آیا ہو۔ ہندوستان اگرچہ دارالاسلام ہے مگر یہاں  کے کفّار ذمّی نہیں ، انھیں صدقات نفل مثلاً ہدیہ وغیرہ دینا بھی ناجائز ہے۔ فائدہ : جن لوگوں کو زکاۃ دینا ناجائز ہے انھیں اور بھی کوئی صدقۂ واجبہ نذر و کفّارہ و فطرہ دینا جائز نہیں، اگر بے سوچے سمجھے دے دی یعنی یہ خیال بھی نہ آیا کہ اُسے دے سکتے ہیں  یا نہیں  اور بعد میں معلوم ہوا کہ اُسے نہیں  دے سکتے تھے تو ادا نہ ہوئی، ورنہ ہوگئی اور اگر دیتے وقت شک تھا اور تحری نہ کی یا کی مگر کسی طرف دل نہ جما یا تحری کی اور غالب گمان یہ ہوا کہ یہ زکاۃ کا مصرف نہیں اور دے دیا تو ان سب صورتوں میں ادا نہ ہوئی مگر جبکہ دینے کے بعد یہ ظاہر ہوا کہ واقعی وہ مصرفِ زکاۃ تھا تو ہوگئی۔( حصہ 5 صفحہ 936/34)


واللہ تعالیٰ اعلم

اــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

کتبــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی، خادم سعدی دار الافتاء، متوطن: نل باڑی، سوناپورہاٹ، اتردیناجپور بنگال

*🗓 ۲۱ رمضان المبارک ۱۴۴۱؁ھ مطابق ۱۵ مئی ٠٢٠٢؁ء بروز جمعہ*

*رابطہ* https://wa.me/+918793969359


Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad