السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضور ہمارا بینک میں ایک لاکھ 69 ہزار روپیہ ہے جس میں میں 87 ہزار روپے کا قرض دار ہو ں اب ہمیں کتنی زکات کی رقم دینی ہوگی
سائل : حسرالدین
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
صورت مسئولہ میں قرض میں لی ہوئی رقم کو منہا ( مائنس) کرنے کے بعد 82 ہزار روپے باقی بچتا ہے اور اس کی زکوۃ واجب ہے اور 82 ہزار کی زکوٰۃ 2050 روپے دینی ہے ایک لاکھ میں 2500 روپے کے اعتبار سے۔
حاشیہ طحطاوی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں ہے :( فارغ عن الدين ) أي الذي مطالب من جهة العباد سواء كان الله كزكوة و خراج، أو للعبد ( کتاب الزکاۃ صفحہ 714)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے: ( ومنها الفارغ عن الدين ) قال أصحابنا رحمهم الله تعالى كل دين له مطالب من جهة العباد يمنع وجوب الزكاة سواء كان الدين للعباد كالقرض الخ ( ج1 کتاب الزکاۃ،الباب الاول فی تفسیرھا الخ صفحہ 173)
درمختار میں ہے:لا زکوٰۃ علی مدیون للعبد بقدر دینه فیزکی الزائد ان بلغ نصابا۔ بندہ کے قرضدار پر قرض کی مقدار پر زکوٰۃ نہیں ، ہاں اگر قرض سے زائد نصاب کو پہنچ جائے تو پھر اس کی زکوٰۃ ادا کرے( ج 3 کتاب الزکاۃ صفحہ 176)
بہار شریعت جلد اول میں ہے : نصاب کا مالک ہے مگر اس پر دین ہے کہ ادا کرنے کے بعد نصاب نہیں رہتی تو زکوٰۃ واجب نہیں ۔ ( حصہ 5 صفحہ 878)
*🔹واللہ تعالیٰ اعلم🔹*
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
*📝 _کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ_ 📝*
حـضـرت عــــلامـہ و مـــولانا مفــــتی محمــــــد مظـــہر حســـین سعـــدی رضـــوی صـــاحـب قــــبلہ مــــدظـلہ الـعالـی والــــنورانـی،خـــادم سعدی دار الافـــتاء،متوطن: نـــل بـــاڑی، ســـونا پـــورہاٹ، اتـــردیـــناجـــپور، بنـــگال،
*12/ رمضان المبارک 1441ھ*
*6/ مئ 2020 ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_

