السلام علیکم ورحمتہ اللہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ میں کہ جو شخص سید اپنے آپ کو کہئے اس کے بارے میں شرع کا کیا حکم ہے
سائل : محمد مختار
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
جب تک آپ کو تحقیق سے معلوم نہ ہو تو آپ اسے سید ہی سمجھے، ہاں اگر وہ واقعی سید نہ ہو اور وہ اپنے آپ کو سید کہتا ہوں تو وہ ملعون اور فاسق و مرتکب کبیرہ ہے۔
فتاویٰ رضویہ میں ہے : اس کا اپنے آپ کو سیدبنانا کہنا، لکھنا ہمارے علم میں جرم کی حد پر نہیں بلکہ وہ کہتا ہے اور ہمیں اس کا خلاف معلوم وثابت ومتحقق نہیں توہم اسے سچاہی خیال کریں گے کہ الناس علی انسابهم ( لوگ اپنے نسبوں پر قائم ہیں) اور ارشاد ہوتا ہے"لولا اذ سمعتموہ ظن المؤمنون و المؤمنٰت بانفسهم خیرا" ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم لوگوں نے وہ افواہ سنی تو مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں نے اپنوں کے بارے میں اچھا گمان کیا ہوتا۔ہاں جو واقع میں سید نہ ہو اور دیدہ ودانستہ بنتا ہو وہ ملعون ہے نہ اس کا فرض قبول ہو نہ نفل۔رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:من ادعٰی الی غیر ابیه او انتمٰی الی غیر موالیه فعلیه لعنة ﷲ و الملئکة والناس اجمعین لایقبل ﷲ منه صرفا ولا عدلا. جو کوئی اپنے باپ کے سوا کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنے کا دعوٰی کرے یا کسی غیر والی کی طرف اپنے آپ کو پہنچائے تو اس پر اللہ تعالیٰ ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس کے فرائض اور نوافل قبول نہ فرمائے گا۔مگر یہ اس کا معاملہ اللہ عزوجل کے یہاں ہے ہم بلا دلیل تکذیب نہیں کرسکتے، البتہ ہمارے علم تحقیق طور پر معلوم ہے کہ یہ سید نہ تھا اور اب سید بن بیٹھا تو اسے ہم بھی فاسق ومرتکب کبیرہ و مستحق لعنت جانیں گے۔( جلد 23 صفحہ 198)۔
واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن :نل باڑی، سوناپورہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند۔
*23/ صفر المظفر 1442ھ*
*12/ اکتوبر 2020ء *
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

ماشاءاللہ بہت عمدہ
ReplyDelete