فتاویٰ رضویہ میں ہے : حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اسم کریم پر، لوگوں کے نام پر تو یوں نہیں کہ وہ اشارہ ودرود کا ہے اور غیر انبیاء وملائکہ علیہم الصلوۃ والسلام پر بالاستقلال درود جائز نہیں اور نام اقدس پر یوں نہیں کہ وہاں پورے درود شریف کا حکم ہے صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم لکھے فقط ص یا صلم یا صلعم جو لوگ لکھتے ہیں سخت شنیع وممنوع ہے یہاں تک کہ تاتارخانیہ میں اس کو تخفیف شان اقدس ٹھہرایا۔( جلد 23 صفحہ 388) اسی میں ہے : درود شریف کی جگہ جو عوام و جہال صلعم یا ع یام یا ص یا صللم لکھا کرتے ہیں،محض مہمل و جہالت ہے،القلم احدی اللسانین(قلم دو۲ زبانوں میں سے ایک ہے)جیسے زبان سے درود شریف کے عوض یہ مہمل کلمات کہنا درود کو ادا نہ کرے گا یوں ہی ان مہملات کا لکھنا،درود لکھنے کا کام نہ دے گا، ایسی کوتاہ قلمی سخت محرومی ہے۔میں خوف کرتا ہوں کہ کہیں ایسے لوگ "فبدل الذین ظلموا قولا غیر الذی قیل لهم"(تو ظالموں نے بدل ڈالی وُہ بات جو ان سے کہی گئی تھی) میں نہ داخل ہوں ۔نام پاک کے ساتھ ہمیشہ پورا درود لکھا جائے صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم ( جلد 9 صفحہ 314)
فتاویٰ افریقہ میں ہے : سوال میں "صلَّی اللّٰه تَعالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم"کی جگہ "صَلْعَم" لکھا ہے اور یہ سخت ناجائز ہے، یہ بَلا عوام تو عوام 12 ویں صدی کے بڑے بڑے اَکابِر و فحول کہلانے والوں میں بھی پھیلی ہوئی ہے ، کوئی "صَلْعَم" لکھتا ہے۔کوئی"صللم"کوئی فقط کوئی "علیہ الصلاۃ والسلام" کے بدلے"عم" یا "ء م" ایک ذَرّہ سیاہی یا ایک اُنگل کاغذ یا ایک سیکنڈ وَقت بچانے کے لیے کیسی کیسی عظیم بَرَکات سے دُور پڑتے اورمَحرومی و بے نصیبی کا ڈانڈا پکڑتے ہیں ( صفحہ 47) بہار شریعت جلد اول میں ہے : اکثر لوگ آج کل دُرود شریف کے بدلے صلعم، عم، ؐ، ؑ لکھتے ہیں ، یہ ناجائز و سخت حرام ہے۔ یوہیں رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی جگہ ؓ ، رحمتہ ﷲ تعالیٰ کی جگہ ؒ ، لکھتے ہیں یہ بھی نہ چاہیے، جن کے نام محمد، احمد، علی حسن، حسین وغیرہ ہوتے ہیں ان ناموں پر ؐ ؑبناتے ہیں یہ بھی ممنوع ہے کہ اس جگہ تو یہ شخص مراد ہے، اس پر دُرود کا اشارہ کیا معنی۔( حصہ سوم صفحہ 534)۔

ماشاءاللہ بہت عمدہ
ReplyDeleteعورت جب بیبا ھوتی ہے تو سفید کپڑا کیوں پہنتی ہے
ReplyDelete