کسی کے پاس ادھار ڈھائی لاکھ روپے بطور قرض ہو اس رقم پر زکوٰۃ دینا واجب ہے یا نہیں
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ سوال:زید نے بکر کو ڈھائی لاکھ روپے بطور قرض دیا بکر اس پر قبضہ کر نے کے بعد جیل میں قیدی بنا،اسی حالت میں بکر تین سال رہا اور یہ بات بھی واضح رہے کہ بکر نے روپے دینے کا وعدہ بھی کیا تھا،پھر جیل سے نکالنے کے بعد وہ روپے واپس کردیا،اب کہنا یہ ہے کہ وہ تین سال جو گزرا جس میں روپے بکر کے پاس تھا کیا اس کی بھی زکات نکالنا واجب ہے؟
المستفتی: مولانا دلبر
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالی
صورت مسئولہ میں جو زید نے بکر کو ڈھائی لاکھ روپے بطور قرض دیا ہے اور اس پر سال بھی گزر گیا ہو تو اس رقم پر زکوۃ واجب ہوگی اس رقم کی ادائیگی اس وقت لازم ہے جبکہ وہ مل جائے جو قرض دیا ہے وہ اپنے ہی قبضے میں مانے جائیں گے اور سال بسال اس کی زکوۃ واجب ہوتی رہے گی۔
رد المحتار میں ہے : اذا امسكه لينفق منه كل ما يحتاجه فحال الحول وقد بقي معه منه نصاب فإنه يزكي ذلك الباقي وان كان قصده الانفاق منه أيضا في المستقبل لعدم استحقاق صرفه الي حوائجه الأصلية وقت حولان الحول بخلاف ما إذا حال الحول وهو مستحق الصرف إليها۔(ج 3مطلب فی زکاۃ ثمن المبیع وفاء صفحہ 179)۔
فتاویٰ رضویہ میں ہے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں : روپیہ کہیں جمع ہو کسی کے پاس امانت ہو مطلقاً اس پر زکوۃ واجب ہے( جلد 10 صفحہ 141)
واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
_کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ_
حــضـــرت عـــلامــہ و مـــولانــا مفتی محمــــــــد مـظـہـر حــسـین سـعــدی الـقــادری عـفـی عــنـہ صـاحـب قبـلـہ مـدظلــہ الـعالـی والـنـوارنــی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند
*3/ رمضان المبارک 1441ھ*
*27/ اپریل 2020 ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

