تین دن اعتکاف ہو سکتا ہے یا نہیں اور اس سے سنت مؤکدہ ادا ہوگا یا نہیں ؟
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
السوال_
کیا جامع مسجدمیں رمضان کے آخری عشرے میں تین دن کا اعتکاف ہو سکتا ہے آور اس سے سنت کفایہ اداہو جاۓ گا
السائل:محمد ناھد رضا اشرفی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَيْكُم السـَّلَام وَرَحمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
الجـــــــــواب بعون الملک الوھاب
سنت مؤکدہ رمضان کے پورے عشرئہ اخیرہ ہے یعنی بیسویں رمضان کو سورج ڈوبتے وقت بہ نیت اعتکاف مسجد میں داخل ہو اور تیسویں کے غروب کے بعد یا انتیس کو چاند ہونے کے بعد نکلے۔ اگر بیسویں تاریخ کے بعد اعتکاف کی تو سنت کفایہ ادا نہ ہوگی اگر سب ترک کریں تو سب گناہ گار ہونگے ہاں اگر بیسویں تاریخ کے بعد تین دن اعتکاف کرنا چاہئے تو کر سکتے ہیں اور یہ اعتکاف نفل ادا ہوگا کیونکہ نفل اعتکاف کا کوئی حد متعین نہیں ہے ۔
تنویر الابصار مع در المختار میں ہے: وهو (وسنة مؤكدة في العشر الاخير من رمضان) أي سنة کفایة كما في البرهان وغيره ۔ فاذا قام بہاالبعض سقط الطلب عن الباقین( ج3 کتاب الصوم باب الاعتکاف 430) اسی میں ہے : (اقله نفلا ساعة ) من ليل أو نهار عند محمد ،وهو ظاهر الرواية عن الامام لبناء النفل على المسامحة، وبه يفتي .والساعة في عرف الفقهاء جزء من الزمان لا جزء من أربعة وعشرين كما يقوله المنجمون. ( ج 3 کتاب الصوم باب الاعتکاف433)مجموع الانہر میں ہے: هو سنة من رمضان، ومستحب، وهو في غيره من الايام كما في التبيين ( ج 1 کتاب الصوم باب الاعتکاف صفحہ 377) ملاقی الفلاح شرح نور الایضاح میں ہے: الاعتكاف(و سنة ) كفاية ( مؤكدة في العشر الاخير من رمضان ) کتاب الصوم صفحہ 257)
فتاویٰ رضویہ میں ہے: اعتکاف عشرہ اخیرہ کی سنتِ مؤکدہ علیٰ وجہ الکفایہ ہے، جس پر حضور پُر نور سیّد عالم صلی ﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے مواظبت ومداومت فرمائی پورے عشرہ اخیرہ کا اعتکاف ہے۔
جلد 10 صفحہ 655/654)۔)
بہار شریعت جلد اول میں ہے : سنت مؤکدہ، کہ رمضان کے پورے عشرئہ اخیرہ یعنی آخر کے دس دن میں اعتکاف کیا جائے یعنی بیسویں رمضان کو سورج ڈوبتے وقت بہ نیت اعتکاف مسجد میں ہو اور تیسویں کے غروب کے بعد یا انتیس کو چاند ہونے کے بعد نکلے۔ اگر بیسویں تاریخ کو بعد نماز مغرب نیت اعتکاف کی تو سنت مؤکدہ ادا نہ ہوئی اور یہ اعتکاف سنت کفایہ ہے کہ اگر سب ترک کریں تو سب سے مطالبہ ہوگا اور شہر میں ایک نے کرلیا تو سب بری الذمہ۔
حصہ 5 صفحہ 1021
واللّٰہ ورسولہ اعلم بالصواب
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کـتــــــــــــــــــبہ
حـضـرت عــــلامـہ و مـــولانا مفــــتی محمــــــد مظـــہر حســـین سعـــدی رضـــوی صـــاحـب قــــبلہ مــــدظـلہ الـعالـی والــــنورانـی ،خادم سعدی دارالافتا،متوطن: نـــل بـــاڑی، ســـونا پـــور ہاٹ، اتـــردیـــناجـــپور، بنـــگال،
مـــــوبائل نمـــــبر
+9 1 8 7 9 3 9 6 9 3 5 9

