السلام علیکم و رحمۃ اللہ
کیالاک ڈاؤن کی وجہ سے چند آ دمی ملکر گھر یا دوسری جگہ میں عید الفطر کی نماز پڑھ سکتے ہیں
رہنمائی فرمائیں نوازش ہوگی
المستفتی : محمد ارمان
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالی
عید الفطر کی نماز واجب ہے مگر سب پر نہیں بلکہ انہیں پر واجب ہے جن پر جمعہ واجب ہےعید کی نماز کی وہی شرطیں ہیں جو جمعہ کی ہے علاوہ خطبہ کے۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے :ويشترط للعيد ما يشترط للجمعة الا الخطبة( فتاوی ہندیہ ج1 کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ العیدین صفحہ 150)
فتاوی رضویہ میں ہے : حکمِ شرعی یہ ہے کہ اقامتِ جمعہ کے لئے سلطانِ اسلام یا اُس کا نائب یا اُس کا ماذون شرط ہے اور جہاں سلطانِ اسلام نہ ہو عالم دین فقیہ معتمد اعلم اہل بلد کے اذن سے امامِ جمعہ و عیدین مقرر ہوسکتا ہے اور جہاں یہ بھی نہ ہو توبمجبوری جسے وہاں کے عامہ مسلمین انتخاب کرلیں وُہ امامت جمعہ یاعیدین کر سکتا ہے ہر شخص کو اختیار نہیں کہ بطورِ خود یا ایک دو یا دس بیس یاسو پچاس کے کہے سے امامِ جمعہ یا عیدین بن جائے ایسا شخص اگرچہ اس کا عقیدہ بھی صحیح ہو اور عمل میں بھی فسق وفجور نہ ہو جب بھی امامتِ جمعہ وعیدین نہیں کرسکتا اگر کرے گا نماز اُس کے پیچھے باطل محض ہوگی کہ اُن تین طریقوں میں سے ایک وجہ کا امام یہاں شرطِ صحت نماز تھا جب شرط مفقود مشروط مفقود۔ دُر مختار میں ہے: یشترط لصحتھا السلطان او مامورہ باقامتھا۔جمعہ کی صحت کے لئے سلطان یااس شخص کا ہونا جس کو سلطان نے اقامتِ جمعہ کی اجازت دی ہو ضروری ہے
حدیقہ ندیہ میں ہے:اذاخلا الزمان من سلطان ذی کفایة فالامور موکلة الی العلماء ویلزم الامۃ الرجوع الیھم ویصیرون ولاۃ فاذا عسر جمعھم علی واحد استقل کل قطر باتباع علمائه فان کثروا فالمتبع اعلمھم۔جب زمانہ کامل سلطان سے خالی ہو جائے تو معاملات علماء کے سپرد ہوں گے اورامّت پر علماء کی طرف رجوع لازم ہوگا اور علماء والی بن جائیں گے اور جب علماء کا کسی ایک معاملہ پر اجماع واتفاق مشکل ہوجائے تو لوگ اپنے اپنے علاقے کے علماء کی اتباع کریں، اگرعلاقے کے علماء کی کثرت ہو تو پھر ان میں سے بڑے عالم کی اتباع کریں۔ تنویرالابصار ودرمختار میں ہے : (نصب العامة) الخطیب غیر معتبر مع وجود من ذکر ۔(عام لوگوں کا مقرر کرنا ) خطیب کو معتبر نہیں جبکہ مذکورہ لوگوں میں سے کوئی ایک موجود ہو۔ (جلد 6 صفحہ 635/36)دوسری جگہ ہے : جمعہ قائم کرنے کے لئے اگر کوئی مسجد بنائیں تو اذن عام مسلمین واشتہار کے ساتھ کسی میدان خواہ مکان میں پڑھیں۔ ( جلد 8 صفحہ 440)
لہذا صورت مسئولہ میں اگر شرائط عید الفطر پائے جائیں تو عید کی نماز پڑھ سکتے ہیں خواہ میدان میں ہو یا دوسری جگہ ورنہ نہیں اور موجودہ حالات میں کثرت تعداد کی وجہ سے قانونی لپیٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر اس کام سے اجتناب کرنا چاہئے جس سے مسلمانوں کو ذلیل و رسوا ہونا پڑے یا حرج میں مبتلاء ہونے کا قوی اندیشہ ہو ، ایسی صورت میں جتنے لوگوں کو گورمنٹ کی جانب سے نماز پڑھنے کی اجازت ہے وہ نماز عید ادا کریں باقی لوگ معذور ہیں وہ لوگ نماز چاشت ادا کریں
واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سوناپور، اتردیناجپور، بنگال
*15/ رمضان المبارک 1441ھ*
*9/ مئی 2019ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

