تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Ala talim hasil karne ke liye jamaa shuda raqam par zakat hai ya nahi??--------اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے جمع شدہ رقم پر زکوٰۃ ہے یا نہیں؟؟

0

Ala talim hasil karne ke liye jamaa shuda raqam par zakat hai ya nahi??

 اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے جمع شدہ رقم پر زکوٰۃ ہے یا نہیں


سـوال:-* السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ؛؛کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ ذیل کے بارے کہ:اگر کسی نے اعلی تعلیم کی خاطر زمین بیچ کر بچوں کی داخلہ فیس کے لیے روپے رکھے، تو کیا سال گزرنے پر اس روپے کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی؟قرآن واحادیث کی روشنی میں جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔


سائل:-محمد کلیم الدین۔ بازبیریا

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

وعَلَيْكُم السَلامُ وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎


الجواب بعون الملک الوھاب

جو اعلی تعلیم کی خاطر زمین بیچ کر بچوں کی داخلہ فیس کے لیے روپے جمع شدہ ہیں اگر وہ حاجت اصلیہ سے زائد ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی ہے یا وہ نقد روپے ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچ جائے اوراس پر سال بھی گزر چکا ہےتو آپ مالک نصاب ہیں اور آپ پر زکوٰۃ نکالنا واجب ہے ورنہ نہیں۔ رد المحتار میں ہے : اذا امسكه لينفق منه كل ما يحتاجه فحال الحول وقد بقي معه منه نصاب فإنه يزكي ذلك الباقي وان كان قصده الانفاق منه أيضا في المستقبل لعدم استحقاق صرفه الي حوائجه الأصلية وقت حولان الحول بخلاف ما إذا حال الحول وهو مستحق الصرف إليها(ج 3مطلب فی زکاۃ ثمن المبیع وفاء صفحہ 179 )۔

بہار شریعت جلد اول میں ہے: حاجتِ اصلیہ میں خرچ کرنے کے روپے رکھے ہیں تو سال میں جو کچھ خرچ کیا اور جو باقی رہے اگر بقدر نصاب ہیں تو ان کی زکاۃ واجب ہے، اگر چہ اسی نیّت سے رکھے ہیں کہ آئندہ حاجتِ اصلیہ ہی میں صَرف ہوں گے اور اگر سال تمام کے وقت حاجتِ اصلیہ میں خرچ کرنے کی ضرورت ہے تو زکاۃ واجب نہیں۔(حصہ 5 صفحہ 884)


والــلـہ تــعــالــیٰ اعــلــم

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سوناپور، اتردیناجپور، بنگال

*23رمضان المکرم،1441 ھ بمطابق،17،مئی 2020 بروز،اتوار*

 *_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad