تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Diobandi ya najdi ya aur koi firqa batila se zakat wa fitra lina kaisa hai.....دیوبندی یا نجدی یا اور کوئی فرقہ باطلہ سے زکوٰۃ وفطرہ لینا کیسا ہے؟

0

Diobandi ya najdi ya aur koi firqa batila se zakat wa fitra lina kaisa hai

 ‭‮‭‮دیوبندی یا نجدی یا اور کوئی فرقہ باطلہ سے زکوٰۃ وفطرہ لینا کیسا ہے؟



السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیاں عظام مسئلہ ذیل میں کہ کوئی دیوبندی یا نجدی یا اور کوئی فرقہ باطلہ میں سے کوئی سنی مسلمان کو زکوۃ دے تو لینا چاہیے کہ نہیں


سائل: حضرت قاری شوکت علی خان شیرانی غوثیہ محلہ شیرانی آباد ناگور راجستھان الھند (مقیم حال سعودی عرب)

    

     ۔____________________


وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالی

وہابی، دیوبندی، نجدی ،ضروریات دین کےمنکر ہیں جس کی بنا پر عرب وعجم کے سیکڑوں علمائے کرام و مفتیان عظام نے انہیں کافر و مرتد قرار دیا اور بالاتفاق فرمایا۔ من شك في كفره وعذابه فقد كفر۔یعنی جو ان کے عقائد پر مطلع ہوتے ہوئے ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ان کے احکام مرتدین کے احکام کی طرح ہے۔


 صورت مسئولہ میں ان سے زکوٰۃ وفطرہ اور ہدیہ کا لینا جائز نہیں ہے اگر لے لیا ہو تو اس کو واپس کر دے اس لئے کہ بد مذہب اور باطل عقائد سے جب کوئی تعاون لے یا وہ احسان کرے تو فطری طور پر ان سے مودت اور انسیت ہو گی یا ان سے کم سے کم عداوت ختم ہوگی یہ دونوں باتیں قرآن و حدیث کے خلاف ہیں۔


مسلم شریف کی حدیث پاک ہے : فاياكم واياهم لا يضلونكم ولا يفتنونكم۔ ( ج 1 باب فی الضعفاء والکذابین صفحہ 10)۔


جامع الاحادیث الجامع الصغیر وزوائدہ والجامع مع الکبیر میں ہے : قال النبي صلى الله عليه وسلم فلا تؤاكلوهم  ولا تشاربوهم ولا تجالسوهم ولا تصلوا عليهم ولا تصلوا معهم ۔ ( ج2 صفحہ 444)۔


شرح بخاری ابی الحسن علی بن خلف میں ہے: انا لانستعين بمشرك لقوله عليه الصلاه والسلام ۔ ( ج5 صفحہ 222بیروت) ۔


فتاوی رضویہ میں  ہے : اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی خدمت فیض میں سوال ہوا اگر کوئی قادیانی مسجد کے خرچ کے واسطے روپیہ وغیرہ دے یا کسی طالب علم یا اور شخص کو مکان پر بلا کر کھانا کھلائے یا بھیجدے ان دونوں صورتوں میں کھانا کھانا جائز ہے یا نہیں یا وہ روپیہ مسجد میں لگانا کیسا ہے۔اعلی حضرت علیہ الرحمہ جواب ارشاد فرماتے ہیں نہ وہ روپئے لئے جائیں، نہ کھانا کھایا جائے اور اس کے یہاں جاکر کھانا سخت حرام ہے ( جلد 22 صفحہ 328 جدید)۔


ہاں جب کوئی حرج ہو یافتنہ فساد کا اندیشہ ہو مثلاً جان جانے کا خطرہ یا مال تلف ہونے کا خوف ہو تو مصلحت کے طور پر لینے میں کوئی حرج نہیں وہ زکوٰۃ وفطرہ کے نام سے نہ لےاگر چہ دینے والا کچھ کہے یا سمجھےکہ اس کے لیے اسی کی نیت بہتر ہے نہ کہ دوسرے کی۔


الاشباہ والنظائر میں ہے : الضرورات تبيح المحظورات۔ ضرورتیں محظورات کو مباح کر دیتی ہے۔ ( القاعدۃ الخامسۃ الضرر یزال صفحہ 307)۔


 واللہ تعالیٰ اعلم

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ_

حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی ، خادم سعدی  دار الافتاء ، متوطن: نل باڑی، سوناپورہاٹ، اتردیناجپور بنگال،

*24/ رمضان المبارک 1441ھ* 

*18/ مئ 2020 ء*

 *_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_ 


Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad