تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Kiya diobadi wahabi se talaq Lena zaruri hai?___کیــا دیــوبنــدی وہــابــی ســے طــلاق لیــنا ضــروری ہــے؟

0

Kiya diobadi wahabi se talaq Lena zaruri hai?

 

کیا دیــوبنــدی وہــابــی ســے طــلاق لیــنا ضــروری ہــے؟؟




اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

السوال

 کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ زید کی لڑکی ہندہ صحیح العقیدہ ہے اس کی شادی زید نے ایک وہابی غیر مقلد کہ ساتھ کردی تھی اب ہندہ اپنے گھر سے چلی آئی اور اس کو گھر بھیجنا بھی نہیں چاہتا بلکہ اس ہندہ مدخولہ کی شادی ایک سنّی صحیح العقیدہ کہ ساتھ کر نا چاہتا ہے اب ایسی صورت میں ہندہ کو طلاق کی ضرورت ہے یا نہیں بغیر طلاق لئے اس کا نکاح کر دیا جاۓاس کا جواب ارشاد فر مائیں حوالہ کہ ساتھ بہت مہر بانی ہوگی


السائل: محمد ارشد رضا


ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وَعَلَيْكُم السـَّلَام وَرَحمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ

الجـــــــــواب بعون الملک الوھاب

 وہابی، دیوبندی، غیر مقلد ،شیعہ ضروریات دین کےمنکر ہیں جس کی بنا پر عرب وعجم کے سیکڑوں علمائے کرام و مفتیان عظام نے انہیں کافر و مرتد قرار دیا اور بالاتفاق فرمایا۔ من شك في كفره وعذابه فقد كفر۔یعنی جو ان کے عقائد پر مطلع ہوتے ہوئے ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ صورت مسئولہ میں ان سے نکاح ہوا ہی نہیں پھر طلاق کی کیا ضرورت ۔فتاوی ہندیہ میں ہے : لایجوز للمرتد ان یتزوج مرتدة ولا مسلمة ولا كافرة اصلية وكذالك لايجوز نكاح المرتدة مع احد کذالک فی المبسوط۔(( ج1 کتاب النکاح، القسم السابع المحرمات بالشرک صفحہ 282))


((فتاویٰ رضویہ میں ہے :جس مسلمان عورت کا غلطی یاجہالت سے کسی ایسے کے ساتھ نکاح باندھا گیا اس پر فرض فرض فرض ہے کہ فوراً فوراً فوراً اس سے جدا ہوجائے کہ زنائے سے بچے، اور طلاق کی کچھ حاجت نہیں، بلکہ طلاق کا کوئی محل ہی نہیں، طلاق تو جب ہوکہ نکاح ہوا ہو، نکاح ہی سرے سے نہ ہوا، نہ اصلا عدت کی ضرورت کہ زنائے کے لئے عدت نہیں، بلا طلاق وبلا عدت جس مسلمان سے چاہے نکاح کرسکتی ہے۔درمختار میں ہے: نکح کافر مسلمة فولدت منه لایثبت النسب منه ولا تجب العدۃ لانه نکاح باطل ۔کسی کافر نے کسی مسلمان عورت سے (اپنے خیال میں) نکاح کرلیا تو اس سے عورت نے بچہ جنا تو اس سے بچے کا نسب ثابت نہ ہوگا۔ اور نہ عورت پر عدت واجب ہوگی، اس لئے کہ وہ ایک باطل نکاح ہے۔ ردالمحتار میں ہے :ای فالوطء، فیه زنا لایثبت به النسب ۔یہ وطی زنا قرار پائے گی اس سے بچے کا نسب ثابت نہ ہوگا، ( جلد 21 صفحہ 281)


      واللّٰہ ورسولہ اعلم بالصواب

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

کـتــــــــــــــــــبہ

حـضـرت عــــلامـہ و مـــولانا مفــــتی محمــــــد مظـــہر حســـین سعـــدی رضـــوی صـــاحـب قــــبلہ مــــدظـلہ الـعالـی والــــنورانـی،خـــادم سعدی دار الافـــتاء ،متوطن:نـــل بـــاڑی، ســـونا پـــور ہاٹ، اتـــردیـــناجـــپور، بنـــگال، 

مـــــوبائل نمـــــبر __

+9 1 8 7 9 3 9 6 9 3 5 9 


Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad