در مختار مع رد المحتار میں ہے: و أن يكون قربة في ذاته أي بأن يكون من حيث النظر إلي ذاته و صورته قربة. ( ج6 کتاب الوقف، صفحہ 524) فتاویٰ ہندیہ میں ہے : وأما شرائطه و منها أن يكون قربة في ذاته و عند التصرف فلا يصح وقف المسلم أو الذمي علي البيعة والكنيسة أو علي فقراء اهل الحرب في ذاته. ( ج2 کتاب الوقف، وہو مشتمل علی اربعۃ عشر بابا، صفحہ 353) فتاویٰ رضویہ میں ہے: امام باڑہ وقف نہیں ہوسکتا وہ جس نے بنایا اسی کی ملک ہے اسے اختیار ہے اس میں جو چاہے کرے، وہ نہ رہا تو اس کے وارثوں کی ملک ہے انہیں اختیار ہے، اور تعزیہ داری کو اگر کسی نے دینداری کہا اور اس نے اس کی شرکت سے انکار کیا تو کچھ بیجا نہ کیا کہ تعزیہ داری ناجائز ہے اس میں شرکت جائز نہیں۔( جلد 16 صفحہ 121)۔
بہار شریعت جلد دوم میں ہے : وہ کام جس کے لیے وقف کرتا ہے فی نفسہ ثواب کا کام ہو یعنی واقف کے نزدیک بھی وہ ثواب کا کام ہواور واقع میں بھی ثواب کا کام ہو اگر ثواب کاکام نہیں ہے تو وقف صحیح نہیں۔مثلاًکسی ناجائز کام کے لیے وقف کیا اوراگر واقف کے خیال میں وہ نیکی کا کام ہو مگرحقیقت میں ثواب کا کام نہ ہو تو وقف صحیح نہیں اور اگر واقع میں ثواب کا کام ہے مگر واقف کے اعتقاد میں کار ثواب نہیں جب بھی وقف صحیح نہیں۔(حصہ دس وقف کا بیان صفحہ 526)۔

