تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

والد کا سنی بنانے کی غرض سے اپنے لڑکا کا نکاح دیوبندی لڑکی سے کرانا جائز ہے یا نہیں؟

0

Diobadi se nikah karana kaisa.....




السلامُ علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

سـوال

کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام و مفتیان عظام اس مسٸلہ کہ بارے میں کہ زید سنی ہے زید کہ سنی ہونے میں کوٸ شک نہیں ہے مسلکِ اعلیٰ حضرت کہ چاہنے ماننے والے ہیں لیکین ان میں ایک بات ہے جو سمجھ سے باہر ہے وہ یہ کہ زید اپنے لڑکے بکر کی شادی کرنا چاہتا ہے زید اپنے لڑکے بکر کی شادی کسی سنی لڑکی سے کرنے کہ بجاۓ کسی وہابی لڑکی سے کرنا چاہتا ہے۔۔۔ جب اس بات کا علم عمر کو ہوا تو عمر نے زید سے کہا کہ آپ اپنے لڑکے بکر کی شادی کسی وہابی سے نہ کریں کسی سنی کا نکاح بدمذہب لڑکی سے نہیں ہو سکتا یہ آپ بھی جانتے ہیں۔۔۔۔۔تو زید نے عمر سے کہا کہ میرا الگ پلان ہے۔۔۔۔عمر نے پوچھا وہ کیا۔۔۔تو زید نے کہا کہ میں اس لڑکی سے اپنے لڑکے کی شادی کر کہ اس کو سنی بنا دونگا۔۔۔۔ زید کا کہنا ہے شادی سے پہلے اس کو توبہ کروا دونگا اور پھر نکاح کرواٸنگا۔۔۔۔اور زید نے ایسا کیا بھی ہے جب زید نے اپنی لڑکیوں کی شادی کیا اسی طرح لڑکوں کو نکاح سے کچھ دیر پہلے کسی پیر سے توبہ کرا کہ اس مرید کر دیا اور پھر نکاح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زید کا سب کچھ جانتے ہوۓ بھی اپنے لڑکے کی شادی کسی بدمذہب سے کرنا کیسا۔۔۔۔اور زید کا یہ کہنا کہ اس کو توبہ کرا کہ سنی بنا دونگا۔۔۔۔۔یہ کہا تک دورست ہے۔۔۔۔زید کا یہ دعوٰی کرنا کہاں تک ٹھیک ہے۔۔۔۔شریعت مطہرہ کہ روشنی میں زید پہ کیا حکم نافذ ہوگا۔۔۔علماۓ کرام و مفتیان عظام کی بارگاہ میں عرض ہیں کہ اپنا قیمتی وقت نکال کر اس مسٸلہ کا مکمل حوالہ کہ ساتھ جواب عنایت فرماۓ بہت بڑی کرم نوازش ہوگی۔

السائل۔👈فقیر صلاح الدین بھلہاوی رضوی سیتامڑھی (بہار)*


وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

الجـــــوابـــــ: بعون الملک الوہابــــ

صورت مستفسرہ میں وہابی دیوبندی غیر مقلدین اپنے کفریات قطعیہ کی بنیاد پر بمطابق فتاویٰ حسام الحرمین اور الصوارم الہندیہ کافر و مرتد ہیں جو ان کے کفری عقائد کو جانتے ہوئے انہیں مسلمان مانے، یا ان کے کفر میں شک کرے تو بالاتفاق عرب وعجم کے سیکڑوں علمائے کرام و مفتیان عظام نے انہیں کافر و مرتد قرار دیا، اور فرمایا۔من شك في كفره وعذابه فقد كفر۔ یعنی جو ان کے عقائد پر مطلع ہوتے ہوئے ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔قرآن مجید میں ہے : وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ. ترجمہ : اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی۔

(( پارہ 12 سورہ ہود آیت 113))

دوسری جگہ ہے : وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ. ترجمہ: اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا، بیشک اللہ اور رسول سے منکر ہوئے اور فسق ہی میں مر گئے۔

(( پارہ 10 سورہ توبہ آیت 84))

تیسری جگہ ہے : وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلاَ تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ. ترجمہ: اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔( پارہ 7 سورہ انعام آیت 68) تفسیر احمدیہ میں اس آیت کے تحت فرماتے ہیں : دخل فيه الكافر والمبتدع والفاسق والقعود مع كلهم ممتنع. ترجمہ: ظالموں کی قوم سے مراد عام ہے یعنی ہر مبتدع، فاسق، اور کافر اس میں شامل ہے۔( صفحہ 388)۔مسلم شریف میں ہے : فاياكم واياهم لا يضلونكم ولا يفتنونكم۔ ترجمہ: تم ان سے دور رہنا وہ تم سے دور رہیں کہیں وہ تم کو گمراہ نہ کریں اور تم کو فتنہ میں نہ ڈال دیں۔

(( ج 1 باب فی الضعفاء والکذابین صفحہ 10))

جامع الاحادیث الجامع الصغیر وزوائدہ والجامع الکبیر میں ہے : قال النبي صلى الله عليه وسلم فلاتؤاكلوهم ولاتشاربوهم ولاتجالسوهم ولاتصلواعليهم ولا تصلوا معهم۔ ترجمہ: نہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤ، اور نہ ان کے ساتھ پانی پیو، نہ ان کے پاس بیٹھو،نہ ان کے ساتھ نمازپڑھو، نہ ان کے جنازہ کی نماز پڑھو۔

(( جلد 2 صفحہ 466 ))

لہذا لڑکا لڑکی پر لازم ہے کہ دونوں فوراً جدا ہو جائے اور ان کے والد پر بھی ورنہ محض زنا پر امداد کرنا ہوگا اس لئے کہ کسی مرتد سے نکاح نہیں ہو سکتا،کہ اس سے ہر رشتہ ختم کر دے اور نہ وہ سسرال میں کھا پی سکتے ہیں اور نہ ان لوگوں کی مہمان نوازی کرنا جائز ہے،حدیث پاک الضعفاء الکبیر میں ہے : فلا تؤاكلوهم ولاتشاربوهم ولا تناكحوهم۔ یعنی نہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤ، اور نہ ان کے ساتھ پانی پیو، اور بیاہ شادی نہ کرو۔

( ج 1 صفحہ 126) فتاویٰ ہندیہ میں ہے : لایجوز للمرتد ان یتزوج مرتدة ولا مسلمة ولا كافرة اصلية وكذالك لايجوز نكاح المرتدة مع احد کذالک فی المبسوط)

(( ج1 کتاب النکاح، القسم السابع المحرمات بالشرک صفحہ 282))

(ا)

 اور ان کے والد اور جن جن لوگوں نے رشتہ جوڑنے یا کرانے پر امداد کئے تھے اگر ان لوگوں کو وہابی و دیوبندی کے عقائد کو جانتے ہوئے ایسا کیا تو یہ کفر ہے۔ اور سب مسلمانوں پر مجلسِ نکاح میں شریک ہونے والے کا بائکاٹ کرنا لازم ہیں،۔ فتاوی ہندیہ میں ہے : من أعتقد ان الإيمان والكفر واحد فهو كافر. ترجمہ: جس نے اعتقاد رکھا ایمان و کفر ایک ہے تو وہ کافر ہے۔

((کتاب السیر الجزء الثانی صفحہ257))

اسی میں ہے : من يرضی بكفر غيره ويفكر عليه الفتوى۔ ترجمہ : جو شخص دوسرے کے کفر پر راضی ہو تو اس پر کفر کا فتوی دیا جائے گا۔

((كتاب السير الجزء الثاني صفحه 257))

ان لوگوں پر لازم ہیں کہ وہ توبہ واستغفار اور تجدید ایمان،اور شادی شدہ ہوں تو تجدید نکاح بھی، اور کسی کے مرید ہو تو نئے سرے سے بیعت بھی کریں۔ اور والد صاحب جن جن لوگوں نے رشتہ جوڑنے یا کرانے پر امداد کئے تھے اگر ان لوگوں کو تفصیلاً ان کے عقائد معلوم نہ ہو تو یہ لوگ گنہگار ہوئے یہ بھی توبہ واستغفار کریں۔فتاویٰ رضویہ میں ہے : جسے یہ معلوم ہوکہ دیوبندیوں نے رسول ﷲ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی توہین کی ہے پھر ان کے پیچھے نماز پڑھتا ہے اسے مسلمان نہ کہا جائے گا کہ پیچھے نماز پڑھنا اس کی ظاہر دلیل ہے کہ ان کو مسلمان سمجھا اور رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی توہین کرنے والے کو مسلمان سمجھنا کفر ہے اسی لئے علمائے حرمین شریفین نے بالاتفاق دیوبندیوں کو کافر مرتد لکھا اور صاف فرمایا کہ:من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر۔جس نے ان کے کفر وعذاب میں شک کیا وہ بھی کافر ہے۔جوان کے عقائد پر مطلع ہو کر انہیں مسلمان جاننا درکنار ان کے کفر میں شک ہی کرے وہ بھی کافر اور جن کو اس کی خبر نہیں اجمالاً اتنا معلوم ہے کہ یہ برے لوگ بدعقیدہ بد مذہب ہیں وہ ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے سخت اشد گنہگار ہوتے ہیں اور ان کی وہ نمازیں سب باطل وبیکار۔

((جلد 14 صفحہ 376))

اسی میں ہے : یہ فرقے ( یعنی قادیانی، غیر مقلد، اہل قرآن، رافضی،)اور اسی طرح دیوبندی و نیچری غرض جو بھی ضروریات دین سے کسی شے کا منکر ہو سب مرتد کافر ہیں، ان کے ساتھ کھانا پینا، سلام علیک کرنا، ان کی موت وحیات میں کسی طرح کا کوئی اسلامی برتاؤ کرنا سب حرام ہے۔ اسی میں ہے : ان سے کوئی معاملہ اہلِ اسلام کا سا کرنا حلال نہیں، ان سے میل جول نشست و برخاست سلام کلام سب حرام ہے۔

(( جلد 14 صفحہ 412/410))

(ب)

 اور ان کے والد کا یہ کہنا کہ شادی سے پہلے اسے سنی بنا لیا گیا تھا پھر بھی اس سے نکاح پڑھانا جائز نہیں ہو سکتی ہے کیونکہ ایسے موقع پر دیوبندی اپنا مطلب نکالنے کے لئے بظاہر سنی بن جاتے ہیں مگرحقیقت میں وہ اپنا مذہب پر قائم رہتے ہیں اور کچھ دنوں بعد اپنے رشتہ دار کو دیوبندی بنالیتے۔ ہاں اگر لڑکی کے سنی ہونے کے ساتھ اس کے گھر والے بھی سنی صحیح العقیدہ ہو جائیں تو کچھ مدت تک دیکھا جائے کہ وہ سنیت پر قائم ہیں یا نہیں، جب خوب اطمینان ہو جائے کہ وہ سنیت پر قائم ہیں تب ان سے رشتہ ہو سکتا ہے اس سے پہلے ہر گز اجازت نہیں جیسے کہ شراب پینے والا اگر توبہ کر لے تو فوراً اسے امام نہیں بنا دیا جائے گا، بلکہ اطمینان کے لئے کچھ روز اسے دیکھا جائے گا ۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے الفاسق إذا تاب تقبل شهادته مالم يمض عليه زمان يظهر عليه أثر التوبة۔ ترجمہ: فاسق نے توبہ کی تو اس کی گواہی فی الحال مقبول نہ ہوگی جب تک کہ اس قدر زمانہ گزر جائے کہ توبہ ظاہر ہو

(( ج 3 کتاب الشہادات، الفصل الثانی فیمن لاتقبل شہادتہ لفسقہ، صفحہ 448))

واللـہ تـعـالیٰ اعـلـم بـالـصـواب

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

کتبـــــــــــــــــــــہ

حـضـرت مـفـتـی مـحـمّـد مـظہـر حسیـن سـعـدی رضـوی۔خـادم سعدی دار الافـتـا،متوطن : نل باڑی، سـوناپـور ہاٹ، اتـردیـناجـپـور، ویـسٹ بنـگال، الہنـد۔

 (۴)👈ربیع الثانی،۲۴۴۱؁ھ مطابق(۲۰)نومبر ٠٢٠٢؁ء بروز👈جمعہ مبارکہ

*📞رابـطـــہ کـــــــــــــریــں👇*

*📲+91 87939 69359*


Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad