السلام عليكم و رحمت اللہ و برکاتہ
علماۓ کرام واجب الاحترام کی بارگاہ میں عریضہ پیش ہے وراثت کے حوالے سے ۔
زید کا انتقال ہو گیا اور اسکے وارثین میں تین بیٹیاں اور زید کی زوجہ ہے تو ان کے درمیان زید کی وراثت کیسے تقسیم ہوگی اور ہر ایک کو کتنا کتنا ملےگا براۓ مہربانی واضح فرمادین کرم ہوگا جواب جلدی مل جائیگا تو عین نوازش ہوگی
اللہ رب العزت ہمارے علماء کو دارین میں اپنی رضا عطا فرماۓ اور جزاۓ خیر امین امین۔
سائل : محمد عالم رضا
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
میت کے مال متروکہ سے تجہیز و تکفین کے بعد اور قرض ادا کرنے کے بعد اور اگر میت نے کوئی وصیت کی ہو تو ثلث مال سے وصیت مکمل کرنے کے بعد پھر مابقیہ مال منقولہ یا غیر منقولہ جائداد کو سارے وارثوں میں تقسیم کردیں۔تو پورے جائداد کو چوبیس (٢٤) حصے کئے جائیں گے بیوی کا تین (٣)حصہ، تین بیٹیاں کا اکیس ( ٢١) حصے، یعنی ہر بیٹی کو سات سات کر کے حصے ملینگے،۔
واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن:نل باڑی، سوناپور، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند۔
*25/ ربیع الاول 1442ھ*
*13/ نومبر 2020ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
