السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسٸلہ کے بارے میں کہ اگر کسی نے عشاء کی سنت نہیں پڑھی اور فرض کی نماز پڑاھی تو کیا نماز مکروہ ہوگی اور جومکروہ کہے اس پر حکم شرع کیا ہے بحوالہ جواب عطا فرماٸیں
سائل: محمد غلام رسول
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ الھم ھدایۃ الحق والصواب
اگر عشاء کی سنت غیر مؤکدہ نہیں پڑھی اور اس نے نماز فرض پڑھائی دی تو نماز بلا شبہ ہوگی اور اگر بعد میں پڑھنا چاہیے تو پڑھ سکتے ہیں کوئی ممانعت نہیں۔
درمختار میں ہے : اماما قبل العشاء فمندوب لایقضی اصلا ۔ترجمہ: عشا کے فرائض سے پہلے جو رکعتیں ہیں وہ مستحب ہیں ان کی قضا نہیں ۔ (ج2کتاب الصلاۃ، باب إدراک الفریضۃ، مطلب: ہل الإساءۃ دون الکراہۃ۔۔۔ إلخ صفحہ 621 )۔
حاشیہ طحطاوی شرح نورالایضاح میں ہے: لامانع من قضاء التی قبل العشاء بعدھا ۔ ترجمہ: عشا کی پہلی سنتوں کو عشا کے بعد ادا کر لینے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ ( باب ادراک الفریضۃ صفحہ 246)۔
لہذا جن لوگوں نے کہا کہ وہ نماز مکروہ ہوگی ان لوگوں نے غلط کہا ان لوگوں پر ضروری ہے کہ توبہ واستغفار کریں اور آئندہ اس طرح غلط مسئلہ بتانے کی جرات نہ کریں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن: نل باڑی، سوناپورہاٹ، اتردیناجپور، بنگال۔
*24 / شوال المکرم 1441ھ*
*17/ جون 2020 ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
