تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

وارثوں میں سے پانچ بیٹے تین بیٹیاں اور ایک بیوی کو کتنا کتنا حصہ ملے گا؟

0

وارثوں میں سے پانچ بیٹے تین بیٹیاں اور ایک بیوی کو کتنا کتنا حصہ ملے گا؟

  

  السلام علیکم ورحمتہ اللّٰہ و برکاتہ

  پانچ بیٹے تین بیٹیاں اور ایک بیوی



مال وراثت کے کل کتنے حصے کرنے ہوں گے


 سائل: احمد رضا مصباحی جوگیشوری مشرق ممبئی

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالیٰ الھم ھدایۃ الحق والصواب

صورت مسئولہ میں میت کے مال متروکہ سے تجہیز و تکفین کے بعد اور قرض ادا کرنے کے بعد اور اگر میت نے کوئی وصیت کی ہو تو ثلث مال سے وصیت مکمل کرنے کے بعد پھر مابقیہ مال منقولہ یا غیر منقولہ جائداد کوسارے وارثوں میں تقسیم کردیں۔ تو پورے جائداد کو ایک سو چار (١٠٤) حصے کئے جائیں گے بیوی کا (١٣ ) حصہ، پانچ لڑکے کے ستر (٧٠) حصے ، (یعنی ایک لڑکا کا حصہ چودہ چودہ کر کے) تین لڑکیاں کے اکیس(٢١) حصے،(یعنی ایک لڑکی کا حصہ سات سات کر کے)ملینگے۔ 


وﷲ تعالی اعلم

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن :نل باڑی، سوناپور ،اتردیناجپور، بنگال۔

*25/ ذی القعدہ 1441ھ* 

*17/ جولائی 2020 ء*

 *_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_ 

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad