السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
زید کے دو بیٹے ہیں
جواب عنایت کریں جتنی جلدی ہو سکے
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : يُوْصِيْكُمُ اللّـٰهُ فِىٓ اَوْلَادِكُمْ لِلـذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ. ترجمہ: بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ۔(پارہ٤سورہ نساء آیت١١)سراجی میں ہے : واما لبنات الصلب فاحوال ثلاث النصف للواحدۃ والثلثان للاثنین فصاعدۃ. ومع الإبن للذكر مثل حظ الانثيين. وهو يعصبهن. (سراجی ص ٢١)۔۔
اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے مثلاً : " وَلاَ تَأْكُلُوْا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ " ترجمہ: آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔( سورہ بقرہ آیت ١٨٨)دوسری جگہ ہے : " وَلاَ تَأْكُلُوْا أَمْوَالَهُمْ اٖلَيٰ أَمْوَالِكُمْ " ترجمہ : اور ان کے مال اپنے مالوں میں ملا کر نہ کھا جاؤ۔(سورہ نساء آیت٢) تیسری جگہ ہے : " إِنَّمَا يَأْكُلُوْنَ فِي بُطُوْنِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيْرًا " ترجمہ : وہ تو اپنے پیٹ میں نری آگ بھرتے ہیں اور کوئی دم جاتا ہے کہ بھڑکتے دھڑے ( بھڑکتی آگ ) میں جائیں گے ( سورہ نساء آیت ١٠ )چوتھی جگہ ہے : " يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا لاَ تَأْكُلُوْا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ" ترجمہ : اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔(سورہ نساء آیت ٢٩)۔مسلم شریف میں ہے : " عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا تحاسدوا، ولا تناجشوا، ولا تباغضوا، ولا تدابروا، ولا يبع بعضكم على بيع بعض، وكونوا عباد الله إخوانا، المسلم اخو المسلم : لا يظلمه ولا يخذله ولا يحقره، التقوى هاهنا، ويشير إلى صدره ثلاث مرات، بحسب امرئي من الشر ان يحقر اخاه المسلم، كل المسلم على المسلم حرام : دمه، وماله، وعرضه" ۔(كتاب البر و الصلة والاداب، باب تحريم الظلم المسلم الخ )۔
لہذا شارق پانچ لاکھ کا ترکہ میں سے اس کا حصہ 166,666.66 / ملے گا۔ اور چار بہنوں کا حصہ 333,333.32/ ملے گا یعنی ہر ایک بہن کو 83,333.33 / کر کے ملے گا۔
