تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

دو بیٹے چار بیٹیاں چھوڑے ترکہ میں دس لاکھ روپے ہیں کس کو کتنا کتنا حصہ ملے گا؟؟

0

دو بیٹے چار بیٹیاں چھوڑے ترکہ میں دس لاکھ روپے ہیں کس کو کتنا کتنا حصہ ملے گا؟؟

 


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

زید کے دو بیٹے ہیں

(1)فاروق (2)شارق
اور چار بیٹیاں ہیں (1)شاہین(2)سلمی(3)خالدہ (4)شاہدہ
زید نے دس لاکھ روپے اپنے تر کے میں سے چھوڑا اب وہ دس لاکھ فاروق اور شارق نے پانچ پانچ لاکھ کر کے بانٹ لۓ
اب شارق کے پاس جو پانچ لاکھ روپے ہیں وہ اب اپنے بہنوں کو بھی دینا چاہتا ہے اور شارق کہتا ہے کہ فاروق اپنا سمجھے گا میرے پاس جو پانچ لاکھ ہے اس میں بہنوں کا کتنا حق ہے یعنی مجھے پانچ لاکھ میں مجھے چار بہنوں کو کتنا کتنا دینا پڑے گا

جواب عنایت کریں جتنی جلدی ہو سکے

المستفتی : بندئہ خدا 
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
میت کے مال متروکہ سے تجہیز و تکفین کے بعد اور قرض ادا کرنے کے بعد اور اگر میت نے کوئی وصیت کی ہو تو ثلث مال سے وصیت مکمل کرنے کے بعد پھر مابقیہ مال منقولہ یا غیر منقولہ جائداد کوسارے وارثوں میں تقسیم کردیں۔تو پورے جائداد کو آٹھ (٨) حصے کئے جائیں گے چار بیٹیاں کا چار ( ٤) حصے، یعنی ہر ایک بیٹی کو ایک ایک کر کے، دو بیٹا کا چار (٤) حصہ ملینگے،ہر ایک بیٹے کو دو دو کر کے۔ مگر بھائیوں نے شرع کے مطابق ترکہ تقسیم سے قبل واپس میں بانٹ لینا ظلم و ناجائز ہے دونوں بھائی پر ضروری ہے کہ وہ اپنی بہنوں کا حق ترکہ دیں اور بہنوں سے معافی بھی مانگے ورنہ وہ سخت عذاب نار کے مستحق ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : يُوْصِيْكُمُ اللّـٰهُ فِىٓ اَوْلَادِكُمْ لِلـذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ. ترجمہ: بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ۔(پارہ٤سورہ نساء آیت١١)سراجی میں ہے : واما لبنات الصلب فاحوال ثلاث النصف للواحدۃ والثلثان للاثنین فصاعدۃ. ومع الإبن للذكر مثل حظ الانثيين. وهو يعصبهن. (سراجی ص ٢١)۔۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے مثلاً : " وَلاَ تَأْكُلُوْا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ " ترجمہ: آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔( سورہ بقرہ آیت ١٨٨)دوسری جگہ ہے : " وَلاَ تَأْكُلُوْا أَمْوَالَهُمْ اٖلَيٰ أَمْوَالِكُمْ " ترجمہ : اور ان کے مال اپنے مالوں میں ملا کر نہ کھا جاؤ۔(سورہ نساء آیت٢) تیسری جگہ ہے : " إِنَّمَا يَأْكُلُوْنَ فِي بُطُوْنِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيْرًا " ترجمہ : وہ تو اپنے پیٹ میں نری آگ بھرتے ہیں اور کوئی دم جاتا ہے کہ بھڑکتے دھڑے ( بھڑکتی آگ ) میں جائیں گے ( سورہ نساء آیت ١٠ )چوتھی جگہ ہے : " يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا لاَ تَأْكُلُوْا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ" ترجمہ : اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔(سورہ نساء آیت ٢٩)۔مسلم شریف میں ہے : " عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا تحاسدوا، ولا تناجشوا، ولا تباغضوا، ولا تدابروا، ولا يبع بعضكم على بيع بعض، وكونوا عباد الله إخوانا، المسلم اخو المسلم : لا يظلمه ولا يخذله ولا يحقره، التقوى هاهنا، ويشير إلى صدره ثلاث مرات، بحسب امرئي من الشر ان يحقر اخاه المسلم، كل المسلم على المسلم حرام : دمه، وماله، وعرضه" ۔(كتاب البر و الصلة والاداب، باب تحريم الظلم المسلم الخ )۔

لہذا شارق پانچ لاکھ کا ترکہ میں سے اس کا حصہ 166,666.66 / ملے گا۔ اور چار بہنوں کا حصہ  333,333.32/ ملے گا یعنی ہر ایک بہن کو 83,333.33 / کر کے ملے گا۔

واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتا،متوطن:  نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور،ویسٹ بنگال، الہند۔
*5/ ربیع الاخر 1442ھ*
*21/ نومبر 2020ء *
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad