السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ
قرآن مجید میں ہے : وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فٰسِقُونَ" ترجمہ : اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا، بیشک اللہ اور رسول سے منکر ہوئے اور فسق ہی میں مر گئے۔( پارہ 10 سورہ توبہ آیت 84) تفسیرات احمدیہ میں ہے :ولا تصل علي احد منهم مات أبدا، كذلك منعهم عن القيام علي القبر للدفن والزيارة بقوله تعالى: لا تقم علي قبره. انه نهي عن الدفن والزيارة. (صفحہ 448)۔
لہذا جو لوگ شریک ہوئے سخت گناہگار ہوئے اس پر لازم ہے کہ توبہ واستغفار کرے اور آئندہ کے لئے یہ عہد کرے کہ وہ غیر مسلموں کے ساتھ شمشاد گھاٹ یا دفن وغیرہ میں شریک نہیں ہونگے لیکن یہ جانا کفر نہیں ہے۔
