تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

kafir ke janaza ke satha shamshan ghat tak jana kaisa hai?____کافر کے جنازہ کے ساتھ شمشان گھاٹ تک جانا کیسا ہے؟

0

kafir ki janaza ke satha shamshan ghat tak jana kaisa hai?

 

السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرح متین اس مسئلہ ذیل کے بارے میں
کہ کافر کے جنازے کے ساتھ شمشان گھاٹ جانا کیسا ہے ؟؟؟؟؟
مدلل حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں
بہت بہت مہربانی ہوگی

سائل:محمد تسیر رضا نوری طیب پور بہار
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
مسلمان کو کافر کے دفن یا شمشاد گھاٹ تک جانے میں شریک ہونا ناجائز وحرام ہے۔

قرآن مجید میں ہے : وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ   فٰسِقُونَ" ترجمہ : اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا، بیشک اللہ اور رسول سے منکر ہوئے اور فسق ہی میں مر گئے۔( پارہ 10 سورہ توبہ آیت 84) تفسیرات احمدیہ میں ہے :ولا تصل علي احد منهم مات أبدا، كذلك منعهم عن القيام علي القبر للدفن والزيارة بقوله تعالى: لا تقم علي قبره. انه نهي عن الدفن والزيارة. (صفحہ 448)۔

لہذا جو لوگ شریک ہوئے سخت گناہگار ہوئے اس پر لازم ہے کہ توبہ واستغفار کرے اور آئندہ کے لئے یہ عہد کرے کہ وہ غیر مسلموں کے ساتھ شمشاد گھاٹ یا دفن وغیرہ میں شریک نہیں ہونگے لیکن یہ جانا کفر نہیں ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ،اتردیناجپور، ویسٹ بنگال الہند۔
*28/ جمادی الاخری 1442ھ*
*10/ فروری 2021ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad