السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
جملہ علماء کرام و مفتیان شرع متین کی بار گاہ میں ایک سوال یہ ہےکہ ہندہ کی چھ اولاد ہیں ان میں سے تین لڑکی اور تین لڑکا ہندہ کے نام سے دس بیگاہ زمین ہیں لیکن ماں کا انتقال ہو گیا ہیں۔اب وارثین اسں زمین کی بٹوارہ کرنا چاہتے ہیں مفتیان کرام ہے بتائیں کون کتنا پائیگا ماں کا حصّہ سے قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں
سائل : شاھد رضا دیناجپوری 25 جنوری 2021ء
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
میت کے مال متروکہ سے تجہیز و تکفین کے بعد اور قرض ادا کرنے کے بعد اور اگر میت نے کوئی وصیت کی ہو تو ثلث مال سے وصیت مکمل کرنے کے بعد پھر مابقیہ مال منقولہ یا غیر منقولہ جائداد کوسارے وارثوں میں تقسیم کردیں۔تو پورے جائداد کو نو (9) حصے کئے جائیں گے، تین لڑکے کا چھ (6) حصے، یعنی ہر لڑکا کو دو دو کر کے، تین لڑکیوں کا تین ( 3) حصے،یعنی ہر ایک لڑکی کو ایک ایک کر کے۔۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : يُوْصِيْكُمُ اللّـٰهُ فِىٓ اَوْلَادِكُمْ لِلـذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ. ترجمہ: بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ۔(پارہ4سورہ نساء آیت11)۔سراجی میں ہے : واما لبنات الصلب فاحوال ثلاث النصف للواحدۃ والثلثان للاثنین فصاعدۃ. ومع الإبن للذكر مثل حظ
الانثيين. وهو يعصبهن. (سراجی ص 21)۔۔
لہذا دس بیگاہ زمین ترکہ میں تین لڑکے کو 6.67/ یعنی ہر ایک لڑکا کو 2.22/ کرکے ملے گا، اور تین لڑکیوں کو 3.33/ یعنی ہر ایک لڑکی کو 1.11/ کر کے ملے گا۔ )۔
واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند۔
*12/ جمادی الاخری 1442ھ*
*26/ جنوری 2021 ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
