مفتی صاحب قبلہ السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے گاؤں میں صوت پیر گان کا پروگرام کیا گیا جس میں مردیں عورتیں بنتی ہیں اور وہ ناچتی بھی اور گانا چٹکلا اور ناٹک بھی کرتے ہیں کیا اس طرح مرد کو عورت بنا یا گناگانا چٹکلا اور ناٹک دیکھانا جائز ہے کیا صوت پیر گان کرانا والا گناہ کا حقدار ہے یا نہیں جتنے لوگ صوت پیر گان کے پروگرام میں سنے آئے سب کا گناہ صوت پیر گان کرانے والے کو ملے گا یا نہیں، کیا صوت پیر گان کرانا جائز ہے یا نہیں؟ قرآن وحدیث و فقہائے کرام کی روشنی جواب عنایت فرمائیں۔۔
المستفتی: بندئہ خدا
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
الجواب بعونہ تعالیٰ
ایسی مجلس منعقد کرنا جس میں مجمع فسقیات ہوں،مردوں کا عورتیں بنا پھر گانا چٹکلا اور ناٹک بھی دیکھانا سخت ناجائز و گناہ کبیرہ ہے ایسی مجلس میں جانا،سنا بھی گناہ کبیرہ ہےاور صوت پیر گان کرانے والے کو دوگنا گناہ ملے گا۔اس لئے کہ برے کام کرنے والے کو جتنا گناہ ملے گا اتنا گناہ ایجاد کرنے والے کو ملے گا اور یہ قرآن و احادیث میں مصرح ہے۔۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ " ترجمہ: اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو۔(پارہ6 سورہ مائدہ آیت 2)۔دوسری جگہ ہے: وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّن دَعَا إِلَى اللَّهِ "۔ ترجمہ: اس سے کس کی بات بہتر جو اللہ کی طرف بلائے(پارہ 24 حم السجدۃ آیت 33)۔تیسری جگہ ہے : وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ" : ان لوگوں کا بھی بوجھ اٹھائیں گے جس کو بےعلمی کی وجہ سے گمراہ کر رہے ہیں۔ (پارہ 14سورة النحل آیت 25)صحيح بخاري میں ہے: حدثنا الحميد يحدثنا سفيان، حدثنا الاعمش، عن عبد الله بن مرة، عن مسروق، عن عبد الله، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم:" ليس من نفس تقتل ظلما إلا كان على ابن آدم الاول كفل منها"، وربما قال سفيان: من دمها لانه اول من سن القتل اولا۔ ترجمہ:ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، کہا ہم سے اعمش نے، ان سے عبداللہ بن مروہ نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص بھی ظلم کے ساتھ قتل کیا جائے گا اس کے (گناہ کا)ایک حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے (قابیل) پر بھی پڑے گا۔“ بعض اوقات سفیان نے اس طرح بیان کیا کہ ”اس کے خون کا“ کیونکہ اسی نے سب سے پہلے ناحق خون کی بری رسم قائم کی (كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ ، بَابُ إِثْمِ مَنْ دَعَا إِلَى ضَلاَلَةٍ أَوْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً )۔صحيح مسلم میں ہے : حدثني زهير بن حرب ، حدثنا جرير بن عبد الحميد ، عنالاعمش ، عن موسى بن عبد الله بن يزيد ، عن عبد الرحمن بن هلال العبسي ، عن جرير بن عبد الله ، قال: جاء ناس من الاعراب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم عليهم الصوف، فراى سوء حالهم قد اصابتهم حاجة، فحث الناس على الصدقة، فابطئوا عنه حتى رئي ذلك في وجهه، قال: ثم إن رجلا من الانصارجاء بصرة من ورق، ثم جاء آخر، ثم تتابعوا حتى عرف السرور في وجهه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من سن في الإسلام سنة حسنة فعمل بها، بعده كتب له مثل اجر من عمل بها، ولا ينقصمن اجورهم شيء، ومن سن في الإسلام سنة سيئة فعمل بها، بعده كتب عليه مثل وزر من عمل بها، ولا ينقص مناوزارهم شيء " ترجمہ : سیدنا جریر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ کچھ دیہاتی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے وہ کمبل پہنے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا برا حال دیکھا اور ان کی محتاجی دریافت کی تو لوگوں کو رغبت دلائی صدقہ دینے کی۔ لوگوں نے صدقہ دینے میں دیر کی یہاں تک کہ اس بات کا رنج آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر معلوم ہوا، پھر ایک انصاری شخص ایک تھیلی روپیوں کی لے کر آیا، پھر دوسرا آیا یہاں تک کہ تار بندھ گیا (صدقے اور خیرات کا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر خوشی معلوم ہونے لگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اسلام میں اچھی بات نکالے (یعنی عمدہ بات کو جاری کرے جو شریعت کی رو سے ثواب ہے) پھر لوگ اس کے بعد اس پر عمل کریں تو اس کو اتنا ثواب ہو گا جتنا سب عمل کرنے والوں کو ہو گا اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں کچھ کمی نہ ہو گی اور جو اسلام میں بری بات نکالے (مثلاً بدعت یا گناہ کی بات)اور لوگ اس کے بعد اس پر عمل کریں تو تمام عمل کرنے والوں کے برابر گناہ اس پر لکھا جائے گا اور عمل کرنے والوں کا گناہ کچھ کم نہ ہو گا۔اسی میں ہے : حدثنا يحيى بن ايوب ، وقتيبة بن سعيد ، وابن حجر ، قالوا: حدثنا إسماعيل يعنون ابن جعفر ، عن العلاء ، عن ابيه ، عن ابي هريرة ، ان رسول الله صلى الله عليهوسلم، قال:" من دعا إلى هدى كان له من الاجر مثل اجور من تبعه، لا ينقص ذلك من اجورهم شيئا، ومندعا إلى ضلالة كان عليه من الإثم مثل آثام من تبعه، لا ينقص ذلك من آثامهم شيئا" ترجمہ: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ہدایت کی طرف بلائے اس کو ہدایت پر چلنے والون کا بھی ثواب ملے گا اور چلنے والوں کا ثواب کچھ کم نہ ہو گا اور جو شخص گمراہی کی طرف بلائے اس کو گناہ پر چلنے والوں کا بھی گناہ ہو گا اور چلنے والوں کا گناہ کچھ کم نہ ہوگا۔“(كِتَاب الْعِلْمِ، باب مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً أَوْ سَيِّئَةً وَمَنْ دَعَا إِلَى هُدًى أَوْ ضَلاَلَۃٍ)فتاویٰ رضویہ میں ہے : ناٹک مجمع فسقیات ہے اور اس میں جانا ضرور خنیع العذار خفیف الحرکات نامہذب بے باک ہونے کی دلیل کافی ہے اور بعد تعود صراحۃ فسق بالاعلان ہے( جلد 23 صفحہ 99)۔۔
لہذا صوت پیر گان کرانے والے اور جو جو لوگ مجلس میں شریک رہے وہ سب دل سے توبہ واستغفار کریں اور آئندہ عہد کریں کہ ہم لوگ اس طرح کی مجلس کبھی بھی نہیں کریں گے اور نہ کبھی شریک ہوں گے اور نہ کبھی جائیں گے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
_کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ_
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند۔
*14/ جمادی الاخری 1442ھ*
*28/ جنوری 2021 ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
