السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
برائے کرم رہنمائی فرمائے کہ زید کا بیٹا پیدا ہو تے ہی زید کہا تھا کہ میں اپنے بیٹے کے ختنہ کے موقع پر ایک اونٹ سے کرونگا تو کیا اونٹ دینا ضروری ہےاور اس اونٹ کا گوشت سارے لوگ کھا سکتے ہے یا نہیں برائے کرم جواب عنایت فرمائیں
سائل : محمد صابر
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوہاب
زید کا یہ کہنا کہ بچہ کا ختنہ اونٹ سے کروں گا یہ نذر شرعی نہیں کہ اس کا پورا کرنا شرعاً واجب بھی نہیں اگر دینا چاہیے تو دیں سکتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں، اور اس کا گوشت سب کھا سکتے ہیں۔
ردالمختار میں ہے :ولو قال إن برئت من مرضى هذا ذبحت شاة فبري لا يلزم شيءاي لان قوله"ذبحت شاة "وعد لا نذر ويؤيده ما في البزازية لو قال إن سلم ولدي أصوم ما عشت فهذا وعد وايضا ان عوفيت صمت كذا لم يجب مالم يقل لله على-ترجمہ : اگر کسی نے کہا اگر میں بیماری سے شفا یاب ہوجاؤں بکری ذبح کروں گا پھر وہ شفایاب ہوگئے تو اس پر کوئ شیء لازم نہیں یعنی ان کا قول ذبحت شاۃ میں وہ وعدہ ہے نہ کہ نذر اس کی تائید بزازیہ میں ہے اگر کسی نے کہا اگر میرا لڑکا تنگدرست ہوجائے تو روزہ رکھوں گا وہ تنگدرست ہو گیا تو یہ وعدہ ہے اور یہ بھی ہے اگر میں اچھا ہو گیا تو روزہ رکھونگا تو اس پر کچھ بھی نہیں جب تک یہ نہ کہے اللہ کے لئے مجھ پر ہے (ج5 کتاب الایمان صفحہ 532)فتاوی ہندیہ میں ہے:رجل قال إن برئت من مرضى هذا ذبحت شاة فبري لا يلزم شيءالا أن يقول إن برئت فلله على أن اذبح شاة۔ ترجمہ : ایک مردنے کہا اگر میں بیماری سے شفا یاب ہوجاؤں بکری ذبح کروں گا پھر وہ شفایاب ہوگئے تو اس پر کوئ شیء لازم نہیں مگر یہ کہنا اگر میں شفایاب ہوگیا تو اللہ کے لئے مجھ پر ایک بکری ذبح کرنا ہے(ج2 کتاب الایمان صفحہ 66)
واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن :نل باڑی، سوناپور، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال۔
*4/ ربیع الاول 1442ھ*
*22/ اکتوبر 2020ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

