کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل میں
زید کی پانچ لڑکیاں ہیں جن میں دو لڑکی کا انتقال ہو گیا ہے ۔ایک لڑکی بیوی (ماں) سے پہلے انتقال کرگئی اور ایک لڑکی بیوی(ماں) کے بعد۔۔
اور زید کی بیوی کو ننہال سے ایک زمین حصہ میں ملی ہے ۔اِس وقت زید کی بیوی بھی انتقال کرگئی ہے
سوال طلب امر یہ ہے کہ زید کی بیوی سے پہلے جن لڑکی کا انتقال ہوا ہے کیا اس کو بھی حصہ ملے گا۔قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دےکر عند اللہ ماجور ہوں
سائل : بندئہ خدا
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
الجواب بعونہ تعالیٰ
برصدق سوال جب ماں کی زندگی ہی میں ایک بیٹی انتقال کر گئی تو ماں کی جائداد سے ان کا کوئی حصہ نہیں "بعد تقديم ما تقدم على الإرث وانحصار ورثة في المذكورين"پھر مابقیہ مال منقولہ یا غیر منقولہ جائداد کوسارے وارثوں میں تقسیم کردیں۔تو پورے جائداد کو سولہ (16) حصے کئے جائیں گے ایک شوہر کا چار ( 4)حصہ، چار بیٹیاں کا بارہ ( 12) حصے، یعنی ہر ایک بیٹی کو تین تین کر کے، حصہ ملینگے۔
قرآن مجید میں ہے: وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَـرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّـهُنَّ وَلَـدٌ ۚ فَاِنْ كَانَ لَـهُنَّ وَلَـدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَـرَكْنَ ۚ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّـةٍ يُّوْصِيْنَ بِـهَآ اَوْ دَيْنٍ " ترجمہ : اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو، پھر اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے جو وصیت وہ کر گئیں اور دَین نکال کر۔( سورہ نساء آیت 12 )درمختار میں ہے: يقدم الاقرب فالاقرب۔ ( ج 10 کتاب الفرائض صفحہ 517/518 ) فتاویٰ ہندیہ میں ہے : الاقرب يحجوب الا بعد كالابن يحجب اولاد الابن ۔ ( ج6 کتاب الفرائض، الباب الرابع فی الحجب، صفحہ 452)۔
واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سونا پورہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند۔
*18/ جمادی الاخری 1442ھ*
*1/ فروری 2021ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
