سوال نمبر 1 یا محمد یا احمد لکھنا کیسا ہے جواب عنایت فرمائیں کرم ہوگا
سائل : بندئہ خدا
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
قرآن عظیم کا عام محاورہ ہے کہ تمام انبیائے کرام کو نام لے کر پکارتا ہے مگر جہاں محمد رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے خطاب فرمایا ہےحضور کے اوصاف جلیلہ و القاب حمیدہ ہی سے یاد کیا ہے " یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ"۔ اے نبی ہم نے تجھے رسول کیا۔(پارہ 22سورہ احزاب آیت 45)، "یَااٴَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا اٴُنزِلَ إِلَیْکَ" اے رسول پہنچا جو تیری طرف اترا ۔( سورہ مائدہ آیت 67)"يَآ اَيُّـهَا الْمُزَّمِّلُoقُمِ اللَّيْلَ"اے کپڑا اوڑھے لیٹنے والے رات میں قیام فرما۔(سورہ مزمل آیت 1/2)"يَآ اَيُّـهَا الْمُدَّثِّرُ .قُمْ فَاَنْذِرْ "اے جھرمٹ مارنے والے کھڑا ہو ،لوگوں کو ڈر سنا۔(سورہ مدثر آیت 1/2)"یٰس وَ الْقُرْآنِ الْحَكِيمِ. إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ " اے یٰس یا اے سردار مجھے قسم ہے حکمت والے قرآن کی، بے شک تو مرسلوں سے ہے ۔( سورہ یٰس آیت 1/3 )"طہ مَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَىٰ " اے طہ! یا اے پاکیزہ رہنما ! ہم نے تجھ پر قرآن اس لیے نہیں اتارا کہ تو مشقت میں پڑے ۔( سورہ طہ آیت 1/2 )نہایت یہ ہے کہ اشقیائے یہود مدینہ و مشرکین مکہ جو حضور سے جاہلانہ گفتگو میں کرتے ۔ان مقالات خبیثہ کو بغرض رد و ابطال و مژدہ رسانی عذاب و نکال بار ہا نقل فرمایا گیا مگر ان گستاخوں کی اس بے ادبانہ ندا کا کہ نام لے کر حضور کو پکارتے۔یہاں اس کا یہ بندوبست فرمایا کہ اس امت مرحومہ پر اس نبی کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم کا نام پاک لے کر خطاب کرنا ہی حرام ٹھہرایا : قال اللہ تعالیٰ :لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا" اللہ تعالیٰ نے فرمایا: رسول کا پکارنا آپس میں ایسا نہ ٹھہرالو جیسے ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔( سورہ نور آیت 63)اس آیت کے تحت تفسیر جلالین میں ہے : بأن تقولوا يا محمد بل قولو يا نبي الله يا رسول الله. ترجمہ : یا محمد نہ کہو، یا نبی اللہ یا رسول اللہ کہو۔( پارہ 18، سورہ نور آیت 53، صفحہ 203)کہ اے زید،اے عمرو۔ بلکہ یوں عرض کرو : یا رسول اللہ ، یانبی اللہ ، یا سدی المرسلین، یا خاتم النبیین ، یاشفیع المذنبین، صلی اللہ تعالیٰ علیک وسلم وعلی اٰلک اجمعین۔ ابو نعیم حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اس آیت کی تفسیر میں راوی : قال کانوا یقولون یا محمد یا اباالقاسم فنھٰھم اللہ عن ذٰلک اعظاماً لنبین صلی اللہ تعالى علیہ وسلم ، فقالوا یا نبی اللہ ، یا رسول اللہ۔ یعنی پہلے حضور کو یا محمد یا ابالقاسم کہا جاتا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی تعظیم کو اس سے نہی فرمائی ، جب سے صحابہ کرام یا نبی اللہ ، یا رسول اللہ کہا کرتے ۔ بیہقی امام علقمہ وامام اسود اور ابو نعیم امام حسن بصری وامام سعید بن جبیر سے تفسیر کریمہ مذکورہ میں راوی : لا تقولوا یا محمد ولٰکن قولوا یا رسول اللہ ، یا نبی اللہ یعنی اللہ تعالیٰ فرماتاہے : یا محمد نہ کہو بلکہ یا نبی اللہ ، یارسول اللہ کہو۔اسی طرح امام قتادہ تلمیذ انس بن مالک سے روایت کی ، رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔ ولہذا علماء تصریح فرماتے ہیں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو نام لے کر ندا کرنی حرام ہے ۔ اور واقعی محل انصاف ہے جسے اس کا مالک و مولیٰ تبارک وتعالیٰ نام لے کر نہ پکارے غلام کی کیا مجال کہ راہِ ادب سے تجاوز کرے ۔( ماخوذ فتاویٰ رضویہ جلد 30 صفحہ155/ 157)۔
لہذا دلائل مبین سے واضح ہوا کہ یا محمد یا احمد لکھنا یا پکارنا ناجائز و حرام ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتا،متوطن : نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند۔
*2/ رجب المرجب 1442ھ*
*15/فروری 2021 ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

