السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ جملہ علماء کرام و مفتیان شرع متین رہنمائی فرمائیں اس مسئلے میں ماں کی نام سے بارہ کٹھا زمین ھیں اور ماں کے تین بیٹا ھے ان میں سے ایک بیٹے کا انتقال ہوگیا ہے ماں کی موجود گی میں ، اس کے بعد ماں کا بھی انتقال ہوگیا تو کیا اس کے پوتے دادی کا حصہ پائیگا جس کا باپ انتقال ہوگیا قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں کرم نوا زش ھوگی مع حوالے کے ساتھ۔
سائل : شاھد رضا دیناجپوری 26 جنوری 2021ء
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
برصدق سوال "بعد تقديم ما تقدم على الإرث وانحصار ورثة في المذكورين"جب ماں کی زندگی ہی میں بیٹا انتقال کر گئے تو ماں کی جائداد سے ان کا کوئی حصہ نہیں اور ان کی اولاد کا بھی کوئی حصہ نہیں کہ بیٹا کی موجودگی میں پوتے اور پوتی کا کوئی حق نہیں ہوتا ہے۔۔
درمختار میں ہے : يجوز العصبة بنفسه ما أبقت الفرائض وعند الانفراد يجوز جميع المال ۔ اسی میں ہے : يقدم الاقرب فالاقرب۔ ( ج 10 کتاب الفرائض صفحہ 517/518 ) فتاویٰ ہندیہ میں ہے : إذا انفرد أخذ جميع المال. ( الباب الثالث فی العصبات، صفحہ 451)اسی میں ہے: الاقرب يحجوب الا بعد كالابن يحجب اولاد الابن ۔ ( ج6 کتاب الفرائض، الباب الرابع فی الحجب، صفحہ 452)ان لوگوں کو چاہیے کہ ان کے اہل و عیال کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
*14/ جمادی الاخری 1442ھ
*28/ جنوری 2021ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
