تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Aoratun ke muharim kon kon hain, kin kinse nikah jaiz hai, aur unse mazaq Karna jaiz hai ya nahi-----عورتوں کے محارم کون کون ہیں ،کن کن سے نکاح جائز ہے اور ان سے مذاق کرنا جائز ہے یا نہیں؟

0

Aoratun ke muharim kon kon hain, kin kinse nikah jaiz hai, aur unse mazaq Karna jaiz hai ya nahi-----

 السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبر کا تہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسلے میں کہ عورتوں کے محارم کون کون ہیں اور کن کن سے نکاح جائز ہے اور ان سے مذاق کرنا کیسا ہے

سائل : سہیل رضا
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
محارم وہ عورتیں ہیں جن سے نکاح حرام ہےان کے سوا جو ہوں ان سے نکاح جائز ہے۔
اللہ عزوجل فرماتاہے: وَ  لَا  تَنْكِحُوْا مَا نَكَح اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَاقَدْسَلَفَؕ-اِنَّهٗ  كَانَ  فَاحِشَةً وَّ مَقْتًاؕ-وَسَآءَ سَبِیْلًا۠. حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَاَخَوٰتُكُمْ وَعَمّٰتُكُمْ وَخٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَبَنٰتُ الْاُخْتِ وَاُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ  اَرْضَعْنَكُمْ وَاَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِوَاُمَّهٰتُ  نِسَائكُمْ وَ رَبَآئبُكُمُ  الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ  مِّنْ  نِّسَآئكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ٘-فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ  بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ٘-وَ حَلَآئلُ اَبْنَآئكُمُ الَّذِیْنَ  مِنْ۔اَصْلَابِكُمْۙ-وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا  رَّحِیْمًاۙوَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْۚ-كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْۚ-وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَؕ-ترجمہ : اُن عورتوں سے نکاح نہ کرو، جن سے تمھارے باپ دادا نے نکاح کیا ہو مگر جو گزر چکا بیشک یہ بے حیائی اور غضب کا کام ہے اور بہت بُری راہ۔تم پر حرام ہیں تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمھاری وہ مائیں جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا اور دُودھ کی بہنیں اور تمھاری عورتوں کی مائیں اور اُن کی بیٹیاں جو تمھاری گود میں  ہیں،اُن بیبیوں سے جن سے تم جماع کر چکے ہو اور اگر تم نے اُن سے جماع نہ کیا ہو تو اُن کی بیٹیوں میں گناہ نہیں اورتمہارے نسلی بیٹوں کی بیبیاں اور دو بہنوں کو اکٹھا کرنا مگر جو ہو چکا۔ بیشک اللہ(عزوجل) بخشنے والا مہربان ہے اور حرام ہیں شوہر والی عورتیں مگر کافروں کی عورتیں جو تمھاری مِلک میں آجائیں،یہ اللہ(عزوجل) کا نوشتہ ہے اور ان کے سوا جو رہیں وہ تم پر حلال ہیں کہ اپنے مالوں کے عوض تلاش کرو پارسائی چاہتے، نہ زنا کرتے۔ ( پارہ 5/4 سورہ نساء آیت 24/22)۔  

فتاویٰ رضویہ میں ہے: فروع یعنی اپنی اولاد واولاد اولاد اور اصول جس کی اولاد میں خود ہے اگر چہ وہ کتنے ہی دور ہوں اور اپنے ماں باپ کی اولاد کتنے ہی دور فاصلہ پر ہوں اور اپنے داد ، نانا، پرنانا، دادی، پر دادی، نانی ، پرنانی، کی خاص صلبی یا بطنی اولاد یہ سب محارم ہیں اوریہی رشتے دودھ سے بھی مرضعہ ماں ہے اور اس کا شوہر جس کے نطفہ سے دودھ تھا باپ ہے اور جسے دودھ پلا یا وہ اولاد ہے تو اپنی یہ اولاد اور اس کی نسبی ورضاعی کتنی ہی دور اور اپنے ان ماں باپ کے اصول نسبی اورضاعی کی بلا واسطہ اولاد نسبی ، ورضاعی یہ سب رضاعی محرم ہیں۔ اور صہری محرم شوہر کے اصول وفروع نسبی اوررضاعی اور اپنے اصول مثلا ماں ، دادی، نانی، پر دادی، پر نانی کے شوہر اور اپنی فروع مثلا بیٹی، پوتی، نواسی، پرپوتی، پر نواسی کے شوہر، جائز ہنسی مذاق جس میں نہ فحش ہو، نہ ایذا ئے مسلم ، نہ بڑوں کی بے ادبی، نہ چھوٹوں سے بد لحاظی، نہ وقت ومحل کے نظر سے بے موقع نہ اس کی کثرت اپنی ہمسر عورتوں سے جائز ہے اور شوہر کے ساتھ موجوب اجر اور یہاں کثرت میں بھی حرج نہیں اگر اس کے خلاف مرضی نہ ہو،۔( جلد 23 صفحہ 194)۔

واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
 _کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ_ 
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، بنگال۔
*7/ شوال المکرم 1441ھ*
*31/ مئ 2020 ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad