السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیافرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں کہ حنفی مسلک میں اختلاف مطالع کا اعتبار ہے یا نہیں؟
اور اگر بھیونڈی میں چاند دیکھا گیا تو کتنے کلومیٹر تک اسکا حکم ثابت ہوگا؟
نیز کیرلا میں ہندوستان کی بقیہ جگہوں سے ایک دن پہلے رویت ثابت ہو جاتی ہے تو کیا اہل کیرلا کی شہادت کا اعتبار کیا جائے گا۔
بالتفصیل جواب عنایت فرمائیں
سائل: ارشاد احمد بھیونڈی
وعلیکم السلام ورحمةاللّٰہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
فتاویٰ رضویہ میں ہے: ہمارے ائمہ مذہب صحیح معتمد میں دربارہ رمضان وعید فاصلہ بلاد کا اصلاً اعتبار نہیں، مشرق کی رؤیت مغرب والوں پر حجت ہے وبالعکس، ہاں دوسری جگہ کی رؤیت کا ثبوت بروجہ صحیح شرعی ہونا چاہئے، خط یاتار، یا تحریر اخبار،افواہِ بازار یا حکایت امصار محض بے اعتبار، بلکہ شہادتِ شرعیہ یا استفاضہ شرعیہ درکار،
درمختار میں ہے : اختلاف المطالع غیرمعتبر علی المذھب وعلیہ الفتوی فیلزم اھل المشرق برؤیة اھل المغرب اذاثبت عندھم رؤیة اولئک بطریق موجب کما مر۔
صحیح مذہب کے مطابق مطالع کا اختلاف معتبر نہیں، اور فتوٰی اسی پر ہے، تو اہلِ مغرب کی رؤیت کی بناء پر اہلِ مشرق پر روزہ لازم ہوگا بشرطیکہ ان کی رؤیت بطریقِ شرعی ان تک پہنچے، جیسا کہ گزرچکا ہے۔
ردالمحتار میں ہے : قولہ بطریق موجب کان یتحمل اثنان الشہادۃ أو یشھد اعلی حکم القاضی أو یستفیض الخبر بخلاف مااذا اخبراان اھل بلدۃ کذارأوہ لانه حکایة ۔قولہ" بطریق موجب
سے مرادیہ ہے کہ دو۲مرد شہادت پر گواہی دیں یا قاضی کے فیصلہ پر گواہی دیں یا خبر مشہور ہوجائے بخلاف اس صورت کے کہ جب یہ خبر دیں کہ فلاں اہلِ شہر نے چاند دیکھا ہے کیونکہ یہ حکایت ہے،اسی میں ہے
قال الرحمتی معنی الاستفاضة ان تاتی من تلک البلدۃ جماعات متعددون کل منھم یخبر عن اھل البلدۃ انھم صاموا عن رؤیۃ الخ۔
شیخ رحمتی نے فرمایا: شہرت کا مفہوم یہ ہے کہ اس شہر سے متعدد جماعتیں آئیں اور ہر ایک یہ اطلاع دے کہ اس شہر کے لوگوں نے چاند دیکھ کر روزہ رکھا ہے الخ
( جلد 10 صفحہ 447)
لہٰذا صورت مسئولہ میں صحیح مذہب کے مطابق مطالع کا اختلاف معتبر نہیں، اور فتوٰی اسی پر ہے، تواہلِ مغرب کی رؤیت کی بناء پر اہلِ مشرق پر روزہ لازم ہوگا اگر اہل کیرلا کی شہادت ثبوت چاند موجب شرعی سے ثابت ہوجائےتو اعتبار کیا جائے گا اور اگر خط یا تار، یا تحریر اخبار،افواہِ بازار یا حکایت امصار سے ہو تو اہل کیرلا کی شہادت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا .
واللہ تعالیٰ اعلم
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کتبــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی ،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سوناپورہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند
*🗓 ۵ شوال المکرم ۱۴۴۱ھ مطابق ۲۹ مئی ٠٢٠٢ء بروز جمعہ*
*رابطہ* https://wa.me/+918793969359

