تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Agar koi shakhs haram kamai se Chanda de to ase chanda lena jaiz hai ya nahi??____اگر کوئی شخص حرام کمائی سے چندہ دے تو ایسے چندہ کا لینا جائز ہے یا نہیں؟؟

0

 
Agar koi shakhs haram kamai se Chanda de to ase chanda lena jaiz hai ya nahi??


السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں ایک شخص کی ایک چھوٹی سی دکان ہے اور ساتھ میں شراب کا بھی کاروبار ہے ایسے شخص سے مدرسہ کا چندہ لے سکتے ہیں ان کا پیسہ دینی کام میں لگا سکتے ہیں  

سائل : محمد رفیق عالم بیکانیر راجستھان

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالیٰ

شراب کا بنانا، بنوانا، چھونا، اٹھانا، رکھنا،رکھوانا، بیچنا، بکوانا، مول لینا، دلوانا سب حرام حرام حرام ہے۔اور اس سے حاصل ہونے والی منفعت حرام ہے چونکہ یہ ناجائز ہے اس لئے اس کا ثمن بھی ناجائز ہے۔نہ انہیں خود اس کا اپنے صرف میں لانا جائز نہ دوسرے کو۔ اگر لینے والے کو معلوم ہو کہ یہ مال بعینہٖ وہی ہے تو اسے لینا ہر گز روا نہیں۔ اگر لینے والے کو معلوم ہو کہ جو اس نے دیا خاص اس مال حلال سے تھا اس کے لینے میں کوئی حرج نہیں۔ اور اگر معلوم ہو کہ یہ مال جو اس نے دیا اگر چہ عین حرام نہیں مگر اس میں مال حلال و حرام اس طرح سے ملے ہوئے ہیں کہ تمیز نہیں ہو سکتی یا ہو تو بدقت تمام ہو تو اس صورت میں جس قدر مال وجہ حلال سے تھا اس قدر لینا تو بلاشبہ جائز ہے۔یہ سب صورتیں اس وقت تھیں جب اسے اس مال کا حال معلوم ہو، ورنہ تو اس صورت میں فتویٰ جواز ہے کہ اصل حلت ہے، جب تک خاص اس مال کی حرمت نہ ظاہر ہو، لینے سے منع نہ کریں گے، بالجملہ جسے اپنے دین وتقویٰ کا کامل پاس ہو وہ غلبہ حرام کی صورت میں احتراز ہی کرے جب تک خاص اس شیئ کی حلت کا پتہ نہ چلے ورنہ فتویٰ تو جواز ہی ہے۔۔

قرآن مجید میں ہے : وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْـمِ وَالْعُدْوَانِ" ترجمہ: (لوگو) گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کیا کرو ۔( سورہ مائدہ آیت 2) سنن ترمذی شریف میں ہے :عن انس بن مالك قال: " لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم في الخمر عشرة عاصرها، ومعتصرها، وشاربها، وحاملها، والمحمولة إليه، وساقيها، وبائعها، وآكل ثمنها، والمشتري لها، والمشتراة له ". قال ابو عيسى: هذا حديث غريب من حديث انس، وقد روي نحو هذا، عن ابن عباس، وابن مسعود، وابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم.حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کی وجہ سے ”دس آدمیوں پر لعنت بھیجی: اس کے نچوڑوانے والے پر، اس کے پینے والے پر، اس کے لے جانے والے پر، اس کے منگوانے والے پر، اور جس کے لیے لے جائی جائے اس پر، اس کے پلانے والے پر، اور اس کے بیچنے والے پر، اس کی قیمت کھانے والے پر، اس کو خریدنے والے پر اور جس کے لیے خریدی گئی ہو اس پر۔ ( كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب النہی ان یتخذ الخمر خلا، صفحہ 506، حدیث 1295)سنن ابو داؤد میں ہے : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لعن ﷲ الخمر، وشاربها، وساقیها، و بائعها، و مبتاعها، وعاصرها، ومعتصرھا، وحاملها، والمحمولة الیه " ترجمہ : شراب، اسے پینے والا، پلانے والا، فروخت کرنے والا، خریدنے والا، کشید کرنے والا، کشید کروانے والا، اسے اٹھانے والا، جس تک اٹھاکر لے گیا، ﷲ تعالیٰ نے ان سب پر لعنت فرمائی۔(کتاب الاشربہ، باب العنب يعصر للخمر صفحہ 781، حدیث 3674)فتاویٰ ہندیہ میں ہے : عن الامام الفقیه ابی اللیث اختلف الناس فی اخذ الجائزۃ من السلطان قال بعضھم یجوز مالم یعلم انه یعطیه من حرام، قال محمد رحمه ﷲ تعالى وبه ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینه وھو قول ابی حنیفة رحمه ﷲ تعالى واصحابه" ترجمہ : فقیہ ابواللیث سے روایت ہے بادشاہ سے انعام لینے کے بارے میں لوگوں کا اختلاف ہے، بعض نے فرمایا کہ لینا جائز ہے جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ وہ مالِ حرام سے دیتا ہے، امام محمد نے فرمایا ہم اسی کو لیتے ہیں جب تک کسی معین شیئ کے حرام ہونے کی شناخت نہ ہو، امام ابوحنیفہ اور ان کے ساتھیوں کا یہی قول ہے۔(ج 5 کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر، صفحہ 342)فتاویٰ قاضی خان میں ہے : رجل دخل علی سلطان فقدم علیه شیئ من الماکولات قالوا ان اکل منها لاباس به اشتراہ بالثمن أولم یشتر الا ان ھذا الرجل ان کان یعلم انه غصب بعینه فانه لایحل له ان یاکل من ذٰلک.وفیھا ان لم یعلم الاٰخذ انه من ماله أو من مال غیرہ فھو حلال حتی یتبین انه حرام" ترجمہ : ایک آدمی بادشاہ کے پاس گیا تو اس کے آگے کچھ کھانے کی چیزیں لائی گئیں، فقہاء نے فرمایا کہ اگر وہ یہیں کھائے تو اس میں کوئی حرج نہیں خواہ اس نے قیمت سے خریدی ہوں یا نہ خریدی ہوں، مگر جب یہ شخص جانتاہو کہ یہ بعینہٖ غصب ہے تو پھر اس کے لئے حلال نہیں کہ انہیں کھائے، کہ اگر لینے والا یہ نہ جانے کہ وہ لی ہوئی چیز دینے والے کے اپنے مال سے ہے یا کسی دوسرے کے مال سے ہے تو پھر وہ حلال ہے حتی کہ یہ ظاہر ہو جائے کہ وہ حرام ہے۔ ( ج 4 کتاب الحظر و الاباحۃ صفحہ 778)۔

 رد المحتار میں ہے : سئل ابو جعفر عمن اکتسب ماله من امر السلطان والغرامات المحرمة وغیر ذٰلک ھل یحل لمن عرف ذٰلک ان یاکل من طعامه قال احب الی فی دینه ان لایاکل ویسعه حکما ان لم یکن غصبا او رشوۃ " ترجمہ : امام ابوجعفر سے اس آدمی کے متعلق پوچھا گیا کہ جو امر سلطان سے مال کماتا ہے اور اس میں حرام وغیرہ جرمانے بھی شامل ہوتے ہیں لہٰذا جو شخص ان معاملات کو جانتا پہچانتا ہو کیا اس کے لئے حلال ہے کہ وہ اس کا کھانا کھائے، تو انہوں نے فرمایا کہ اس کے دین کے معاملے میں مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ وہ نہ کھائے، اور اس کے لئے اس بات کی حکماً گنجائش ہے اگر وہ غصب یارشوت نہ ہو۔( ج6 کتاب الحظر و الاباحۃ، فصل فی البیع، صفحہ385 )۔غمز عیون البصائر مع الاشباہ والنظائر میں ہے : عن الفقیه ابی جعفر وحاشیة السیدی الحموی علی الاشباہ من قاعدۃ اذا اجتمع الحلال والحرام غلب الحرام وکون الغالب فی السوق الحرام لایستلزم کون المشتری حراما لجواز کونه من الحلال المغلوب و الاصل الحل" ترجمہ : فقیہ ابوجعفر سے روایت ہے الاشباہ والنظائر پرسید حموی کے حاشیہ میں ایک قاعدہ مذکور ہے کہ جب حلال اور حرام جمع ہو جائیں تو حرام غالب ہوگا اور بازار میں حرام کا غالب ہونا اس بات کو مستلزم نہیں کہ جو چیز خریدی گئی وہ حرام ہو اس لئے کہ یہ جائز ہے کہ خریدی ہوئی چیز حلال مغلوب ہو حالانکہ حِل اصل ہے۔( مخلصا الفن الاول، صفحہ 93 )۔


واللہ تعالیٰ اعلم

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی، خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند۔

*14/ رجب المرجب 1442ھ* 

*27/فروری 2021ء *

 *_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_ 

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad