تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Qabrun ko rundte hoe Qabrastan me fatiha dene jana jaiz hai ya nahi?____ قبروں کو روندتے ہوئے قبرستان میں فاتحہ دینے جانا جائز یا نہیں؟؟؟

0
Qabrun ko rundte hoe Qabrastan me fatiha dene jana jaiz hai ya nahi?____



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

مفتی صاحب قبلہ شب برات کے موقع پر لوگ قبرستان جاکر اپنے والدین یا احباب واعزہ کے لئے ایصال ثواب کرتے ہیں یہ بہت اچھی بات ہے لیکن میرا سوال یہ ہے کہ قبروں کو روندتے ہوئے اپنے عزیزوں کی قبر تک جاتے ہیں کیا قبر تک جانا ضروری ہے یا نہیں قبر تک جائے بغیر قبرستان کے کنارے پر فاتحہ وایصال ثواب کرنا صحیح ہے یا نہیں رہنمائی فرماکر جواب عنایت فرمائیں


 سائل : محمد عبد الشکور 

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالی

زیارت قبور اور ایصال ثواب کرنا جائز ہے اور قبور مسلمین کی زیارت سنت ہے لیکن اگر قبروں کو روندتے ہوئے اپنے عزیزوں کی قبر تک جانا پڑے تو نہ جائے،کیونکہ قبروں کو پیروں سے روندنا مکروہ ہےاور اس میں میت کی بےحرمتی ہے۔اگر قبروں کو روندتے ہوئے جانا پڑے تو لوگوں کو چاہئے کہ کنارِ قبرستان سے زیارت اور دعا کرلیں اور ان کی قبروں کے قریب نہ جائیں۔ اوراگر قبروں پر پیر نہ پڑے تو جاسکتے ہیں۔


درمختارمیں ہے : یکرہ المشی فی طریق ظن انه محدث حتی إذا لم یصل الی قبرہ الا بوطی قبر ترکه۔ ترجمہ : قبرستان کے اندر ایسے راستے پر چلنا ممنوع ہے جس کے بارے میں گمان ہو کہ وہ نیا بنالیا گیاہے یہا ں تک کہ جب اپنی میّت کی قبر تک کسی دوسری قبرکو پامال کئے بغیر نہ پہنچ سکتا ہو تو وہاں تک جانا ترک کرے۔(ج 3 باب صلوۃ الجنائز صفحہ134 )۔


فتاویٰ رضویہ میں ہے: نورالایضاح اور اس کی شرح مراقی الفلاح میں ہے :فصل فی زیارۃ القبور ندب زیارتھا من غیر ان یطأ القبور ''فصل زیارت قبور کے بیان میں'' زیارت قبور مستحب ہے مگر قبریں نہ روندی جائیں۔اسی میں ہے:کرہ وطؤھا بالاقدام لما فیه من عدم الاحترام، وقال قاضی خان لو وجد طریقا فی المقبرۃ وھو یظن انه طریق احد ثوہ لایمشی فی ذلک وان لم یقع فی ضمیرہ لابأس بان یمشی فیه ۔قبروں کو پیروں سے روندنامکروہ ہے کیونکہ اس میں بےحرمتی ہے۔ قاضی خاں نے کہا کہ اگر کسی شخص نے قبرستان میں کوئی راستہ دیکھا جس کے بارے میں اسے گمان ہے کہ یہ لوگوں نے نیا بنا لیا ہے تو وہ اس پرنہ چلے اگر اس کے دل میں اس قسم کا خیال پیدا نہ ہو تو چلنے میں مضائقہ نہیں ۔ملخصاً، علامہ اسمٰعیل نابلسی حاشیہ درر و غرر میں فرماتے ہیں: لاباس بزیارۃ القبور والدعاء للاموات ان کانوا مومنین من وطئ القبور۔کما فی البدائع والملتقط۔ قبروں کی زیارت اور مردوں کےحق میں دعا کرنے میں حرج نہیں بشرطیکہ قبریں نہ روندی جائیں، جیساکہ بدائع اور ملتقط میں ہے۔امام علامہ محقق علی الاطلاق ان لوگوں پر اعتراض فرماتے ہیں جن کے اعزّاء واقراباء کے گرد مخلوق دفن ہے،وہ ان قبروں کو روندتے ہوئے اپنے عزیزوں کی گورتک جاتے ہیں، انھیں چاہئے کنارِ گورستان سے زیارت اور دعا کرلیں اور ان کی قبروں کے قریب نہ جائیں۔ فقد قال فی الفتح یکرہ الجلوس علی القبرو وطؤہ فما یصنعه الناس ممن وفنت اقاربه ثم دفن حوالیھم خلق من وطأتک القبور الی ان یصل الي قبر قریبه مکروہ۔ چنانچہ فتح میں کہا: قبر پر بیٹھنا اور اس کو روندنا مکروہ ہے، تو وہ لوگ جن کے رشتہ داروں کے گرد دوسروں کی قبریں ہوں ان کا ان قبروں کو روندنا اپنے قریبی رشتہ دار کی قبر تک پہنچنے کے لیے مکروہ ہے ۔( جلد 9 صفحہ 451)اسی میں ہے: مگر اس کا لحاظ لازم ہے کہ جس قبر کے پاس بالخصوص جاناچاہتا ہے اس تک قدیم راستہ ہو ،ا گر قبروں پر سے ہو کر جانا پڑے تو اجازت نہیں، سرراہ دور کھڑے ہوکر ایک قبر کی طرف متوجہ ہو کر ایصال ثواب کردے ( جلد 9 صفحہ 524)۔


 واللہ تعالیٰ اعلم

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سوناپورہاٹ، اتردیناجپور بنگال

*18 / شوال المکرم 1441ھ* 

*11/ جون 2020 ء*

 *_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_ 


Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad