السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم جب قبرستان میں مٹی دینے جائیں گے تو قبروں پر بھی پیر پڑ سکتا ہے اور قبروں پر پیر رکھنا جائز نہیں ہے تو ہم مٹی دینے کیسے جائیں اگر کوئی راستہ ہو تو بتائیں کہ ہم جا سکیں مفتی صاحب قبلہ سے گزارش ہے کہ سوال کو حل فرمائیں
محمد عبد المجید
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالی
بے ضرورت قبروں پر چلنا مکروہ ہے کیونکہ اس سے میت کو تکلیف ہوتی ہے لیکن قبر کھودنے یا دفن کرنے جانا یہ ضرورت میں داخل ہے پھر بھی جہاں تک ہوسکے قبروں سے بچتے ہوئے جائیں اور ننگے پاؤں ہوں، ان اموات کیلیے دعا استغفار کرتے جائیں۔
فتاویٰ رضویہ میں ہے: ہمارے علماء رحمۃ ﷲ تعالیٰ علیہم نے بے ضرورت قبر پر چلنے اور اس پر بیٹھنے اور پاؤں رکھنے سے منع فرمایا کہ یہ سب حرمتِ مومن کے خلاف ترکِ ادب گستاخی ہے، اورضرورت کی صورت مثلاً قبرستان میں میّت کے لیے قبر کھودنے یا دفن کرنے جانا چاہتے ہیں بیچ میں قبریں حائل ہیں اس حاجت کیلیے اجازت ہے، پھر بھی جہاں تک بن پڑے بچتے ہوئے جائیں اور ننگے پاؤں ہوں، ان اموات کیلیے دعا استغفار کرتے جائیں، فی حاشیۃ العلامۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح عن شرح المشکوٰۃ الوطء الحاجة کدفن المیّت لایکرہ . وعن السراج فان لم یکن له طریق الا علی القبر جازله المشی علیه للضرورۃ ۔علامہ طحطاوی کے حاشیہ مراقی الفلاح میں شرح مشکوٰۃ سے ہے کہ ضرورت کے پیش نظر مثلاً میّت کو دفن کرنے جانا ہو تو قبروں پر سے گزرنا مکروہ نہیں اھ اور سراج سے ہے کہ اگر قبر پر ہی گزرنے کا راستہ ہو تواس پر چلنا ضرورتاً جائز ہے۔حاشیہ طحطاوی علی شرح نورالایضاح میں سراج وہاج سے ہے : ان لم یکن له طریق الاّ علی القبر جازله دلیل علیه للضرورۃ. اھ اقول وھذا ایضا دلیل علی ما اخترنا من کراھة التحریم فان المفھوم المخالف معتبر فی الروایات وکلام العلماء بالاتفاق فافادان المشی لایجوز بلاضرورۃ ومالایجوز فادناہ کراھة التحریم۔ اگرقبر پر ہی سے راستہ ہو تو اس پر چلنا ضرورتاً جائز ہے۔ اھ اقول (میں کہتا ہوں)۔
اس سے بھی ثابت کہ ہمارا قول کراہت تحریمی کا درست ہے، کیونکہ مفہوم مخالف روایات اور کلام علماء میں بالاتفاق معتبر ہے، تو معلوم ہوا کہ بلاضرورت قبر پر چلنا ناجائز ہے اور جو ناجائز ہو اس کا ادنٰی درجہ مکروہ تحریمی ہے۔(ملخصا جلد 9 صفحہ 447/448)۔
واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سوناپور، اتردیناجپور، بنگال
*16 / شوال المکرم 1441ھ*
*9/ جون 2020 ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

