عدت گزرنے کے بعد بیوی کو لوٹا سکتے ہیں یا نہیں؟؟
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ محمد سراج انصاری ابن ننھکو میاں مقام و پوسٹ چک تھانہ مناتو ضلع پلاموں جھاڑ کھنڈ۔
اپنی بیوی کو تقریباً سات مہینہ پہلے دو طلاق دے کر اپنی بیوی سے الگ تھلگ ہے اب محمد سراج انصاری اپنی بیوی کے ساتھ رہنا چاہتا ہے تو اس کی کیا صورت ہوگی۔ اب حلالہ کے بعد نکاح کرے یا حلالہ کی ضرورت نہیں۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی۔
سائل : عبد القدوس سعدی۔
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
برصدق سائل وصحت سوال صورت مسئولہ میں وہ طلاق رجعی واقع ہوگئی ہے۔طلاق رجعی کی عدت گزر جانے کے بعد عورت نکاح سے نکل جاتی ہے اگر وہ اپنی بیوی کی عدت گزر جانے کے بعد پھر رکھنا چاہے تو بیوی کی رضامندی سے از سر نو نکاح کر سکتا ہے۔۔
قران مجید میں ہے : اَلطَّـلَاقُ مَرَّتَانِ فَاِمْسَاكٌ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌ بِاِحْسَانٍ . ترجمہ : یہ طلاق دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نکوئی (اچھے سلوک) کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔( سورہ بقرہ آیت 229)۔فتاویٰ ہندیہ میں ہے : أما حكمه فوقوع الفرقة بانقضاء العدة في الرجعي وبدونه في البائن كذا في فتح القدير. ( ج 1 کتاب الطلاق، الباب الاول صفحہ 348) فتاویٰ رضویہ میں ہے : اگر عدت گزر گئی تو برضائے عورت اس سے از سر نو نکاح کر سکتا ہے۔(جلد 12 صفحہ 448)۔
واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سوناپورہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال الہند
*7/ جمادی الاولی 1442ھ*
*24/ دسمبر 2020ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

