کیا میلاد قیام سلام فاتحہ خوانی کرنے سے سنی ہوجائیگا؟ دیوبندی اور وہابی سے نکاح پڑھانا کیسا ہے؟
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرح متین مسلہ ذیل کے بارے
مسلہ* زید میلاد قیام سلام فاتحہ خوانی کرتا ہےاور اپنے آپکو سنی کہتا ہے لیکن نماز پنجگانہ اور جمعہ دیوبندی امام کی اقتداء میں پڑھتا ہے مزید تجہیزوتکفین بھی فرقہاے باطلہ امام کے ذمہ ہے
باطل فرقہ کے زیدکے بیٹے بکر کی شادی سنی صحیح العقیدہ خالد کی بیٹی کے ساتھ ہوا سنی امام اور سنی مولویوں نے نکاح پڑھا نے انکار کر دیا تو زید اپنی بستی کے قریب سے سنی امام سے نکاح پڑھوایا سنی امام نے دعوی کیا کہ زید میلاد قیام سلام و فاتحہ خوانی کرتا ہے زید سنی ہے
تو کیا زید میلاد قیام سلام وفاتحہ خوانی کرنے سے سنی ہو جائگا
اور اس سنی امام کے بارے شریعت کیا کہتی جس نے نکاح پڑھایا
پڑھایا گیا عقد ہوا یا نہیں
آپ حضور والا سے گذارش ہیکہ قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل ومفصل جواب عنایت فرمایں عین نوازش ہوگی
محمد شفیع انور مسکونہ جھنگنی باڑی پوسٹ بدھان نگر
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
زید کا میلاد قیام سلام فاتحہ خوانی وغیرہ کرنا فی زماننا سنی ہونے کی علامت تو ہے مگر ان چیزوں پر ایمان کا دارومدار نہیں ہے، ایمان کا دارومدار تصدیق بالقلب و اقرار بالسان ہے تمام ضروریات دین کو ماننا اور ان میں سے کسی مسئلہ ضروریہ دینیہ کا انکار قولا وفعلا کسی طرح صادر نہ کرنا اور غیر ضروریات دین کو داخل نہ کرنا اگر زید اس پر ثابت قدم ہے تو مسلمان ہے ورنہ کافر کہا جائے گا اللہ تعالی قران مجید میں ارشاد فرماتا ہے : وَالَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا بِاللّـٰهِ وَرُسُلِـهٖ اُولٰٓئِكَ هُـمُ الصِّدِّيْقُوْنَ وَالشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّـهِـمْ لَـهُـمْ اَجْرُهُـمْ وَنُـوْرُهُـمْ" ترجمہ: اور وہ جو اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائیں وہی ہیں کامل سچے ، اور اَوروں پر گواہ اپنے رب کے یہاں ، ان کے لیے ان کا ثواب اور ان کا نور ہے( سورہ حدید آیت 19)دوسری جگہ ہے : وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّـٰهِ وَبِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَا هُـمْ بِمُؤْمِنِيْنَ" ترجمہ : کچھ لوگ وہ ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ اور پچہلے دین پر اور وہ ایمان والے نہیں۔( سورہ بقرہ آیت 8 )۔۔
وہابی دیوبندی غیر مقلد اپنے کفریات قطعیہ کی بنیاد پر بمطابق فتاویٰ حسام الحرمین اور الصوارم الہندیہ کافر و مرتد ہیں جو ان کے کفری عقائد کو جانتے ہوئے انہیں مسلمان مانے، یا ان کے کفر میں شک کرے تو بالاتفاق عرب وعجم کے سیکڑوں علمائے کرام و مفتیان عظام نے انہیں کافر و مرتد قرار دیا، اور فرمایا۔من شك في كفره وعذابه فقد كفر۔ یعنی جو ان کے عقائد پر مطلع ہوتے ہوئے ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔قرآن مجید میں ہے : وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ. ترجمہ: اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا، بیشک اللہ اور رسول سے منکر ہوئے اور فسق ہی میں مر گئے۔( پارہ 10 سورہ توبہ آیت 84) مسلم شریف میں ہے : فاياكم واياهم لا يضلونكم ولا يفتنونكم۔ ترجمہ: تم ان سے دور رہنا وہ تم سے دور رہیں کہیں وہ تم کو گمراہ نہ کریں اور تم کو فتنہ میں نہ ڈال دیں۔ ( ج 1 باب فی الضعفاء والکذابین صفحہ 10)۔
برصدق سائل وصحت سوال صورت مسئولہ میں امام کا نکاح پڑھانا اور جو لوگ رشتہ جوڑنے یا کرانے پر امداد کئے، اگر ان لوگوں نے وہابی و دیوبندی کے عقائد کو جانتے ہوئے ایسا کئے تو یہ کفر ہے۔ اور اگر عقائد نہیں جانتے ہوئے ایسا کئے تو سخت گناہگار ہیں۔اس امام کے پیچھے ہرگز نماز نہ پڑھیں۔ فتاوی ہندیہ میں ہے : من أعتقد ان الإيمان والكفر واحد فهو كافر. ترجمہ: جس نے اعتقاد رکھا ایمان و کفر ایک ہے تو وہ کافر ہے۔(کتاب السیر الجزء الثانی صفحہ257)اسی میں ہے : من يرضی بكفر غيره ويكفر عليه الفتوى۔ ترجمہ : جو شخص دوسرے کے کفر پر راضی ہو تو اس پر کفر کا فتوی دیا جائے گا۔ (كتاب السير الجزء الثاني صفحه 257)۔رد المحتار میں ہے : الرضا بالكفر كفر" (ج 6 کتاب الجہاد، مطلب فی تمیز اھل الذمۃ صفحہ 336)۔ان لوگوں پر لازم ہے کہ وہ توبہ واستغفار اور تجدید ایمان،اور شادی شدہ ہوں تو تجدید نکاح بھی، اور کسی کے مرید ہو تو نئے سرے سے بیعت بھی کریں۔اور اگر ان کو ان کے عقائد معلوم نہ تھے تو یہ لوگ گناہگار ہوئے، لہذا توبہ واستغفار کریں۔فتاویٰ رضویہ میں ہے : جن کو اس کی خبر نہیں اجمالاً اتنا معلوم ہے کہ یہ برے لوگ بدعقیدہ بد مذہب ہیں وہ ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے سخت اشد گنہگار ہوتے ہیں اور ان کی وہ نمازیں سب باطل وبیکار۔ ( جلد 14 صفحہ 376) اسی میں ہے : ان سے کوئی معاملہ اہلِ اسلام کا سا کرنا حلال نہیں، ان سے میل جول نشست و برخاست سلام کلام سب حرام ہے۔( جلد 14 صفحہ 412/410)۔۔
(ا)
اگر واقعی امام کے اندر مذکورہ باتیں پائی جائیں اور امام رجوع نہ کرے اور اپنی ضد پر رہے تو لوگوں پر ضروری ہے کہ اس کو تبدیل کر دے، کہ اس کے پیچھے نماز جائز نہیں ،اور جو لوگ امام کو سبکدوش نہ کرے وہ بھی گنہگار ہیں ، اگر وہ لوگ امام کو تبدیل کرنے کی اتنی بھی قوت نہ رکھتے ہوں ، تو مسجد میں دوسری جماعت کریں، جبکہ ظن غالب فتنہ وفساد کا اندیشہ نہ ہو، اگر ہو تو دوسری مسجد میں چلے جائیں یا اپنے گھر میں اپنے اہل کے ساتھ جماعت قائم کر کے یا تنہا نماز ادا کرے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے : وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ. ترجمہ: گناہ اور عدوان پر مدد نہ کرو۔( سورہ مائدہ آیت 2) اسی میں ہے :وَالْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ۔ ترجمہ: فتنہ قتل سے بہت بڑی برائی ہے۔ (سورہ بقرہ آیت 191)فتاویٰ رضویہ میں ہے: اگر واقعی امام بدمذہب یا فاسق معلن یا فاسق القرأۃ ہو اور اس کو تبدیل نہ کرسکتا ہو، نہ مسجد میں دوسری جماعت کروا سکتا ہو تو اس صورت میں گھر میں اپنے اہل کے ساتھ جماعت قائم کر کے یا تنہا ادا کرے اگر کوئی دوسرا گھر نہ ہو۔(جلد 6 صفحہ 631)۔۔
لہذا وہاں کے علماء و بستی کے سنی مسلمانوں پر لازم ہے کہ فوراً مذکورہ بالا نکاح کے ختم ہونے کا اعلان کریں، گستاخ رسول یعنی دیوبندیوں اور وہابیوں سے اس قسم کا ہر رشتہ ختم کریں،اگر وہ لوگ نہ مانے تو سماجی بائیکاٹ کریں، مسلک اہلسنت وجماعت المعروف بہ مسلک اعلیٰ حضرت کے مطابق اپنے رشتے قائم کریں،الضعفاء الکبیر میں ہے : فلا تؤاكلوهم ولاتشاربوهم ولا تناكحوهم۔ یعنی نہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤ، اور نہ ان کے ساتھ پانی پیو، اور بیاہ شادی نہ کرو۔ ( ج 1 صفحہ 126) فتاویٰ ہندیہ میں ہے : لایجوز للمرتد ان یتزوج مرتدة ولا مسلمة ولا كافرة اصلية وكذالك لايجوز نكاح المرتدة مع احد کذالک فی المبسوط۔( ج1 کتاب النکاح، القسم السابع المحرمات بالشرک صفحہ 282)۔۔
واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
_کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ_
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتا، متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال الہند۔
*14/ رجب المرجب 1442ھ*
*27/فروری 2021ء *
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

