تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Mosalman aroton ko uchi eri wali sendal pahnna kaisa........ مسلمان عورتوں کو اونچی ایڑی والی سینڈل پہننا کیسا؟؟؟

0

Mosalman aroton ko uchi eri wali sendal pahnna kaisa........


السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ


کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرح متین مسئلہ ذیل کے بارے میں اونچی ایڑی والی سینڈل مسلمان عورتوں کو پہننا کیسا جبکہ اس سینڈل کو پہننے کے بعد پیچھے سے کمر اُبھری ہوئی دیکھتی ہے جواب قرآن و حدیث کی روشنی میں عنایت فرمائیں


 سائل: مولانا سید محمد ارشاد قادری رضوی

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالیٰ

زرق برق پوشاک یا زرق برق سینڈل جوتا جس کی وجہ سے آثار بد وضعی پائے جائیں یہ بھی وضع فساق ہے کہ جس پر نگاہ پڑے اور احتمال فتنہ ہو یا اس کی چال ڈھال بول چال میں آثار بد وضعی پائے جائیں تو ایسی چیزوں کا استعمال کرنی منع ہے۔فتاویٰ رضویہ میں ہے : نہ خوب چست بدن سے سلے۔کہ یہ سب وضع فساق ہے۔ اور ساتر عورت کا ایسا چست ہونا کہ عضو کا پورا انداز بتائے۔ یہ بھی ایک طرح کی بے ستری ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جو پیشگوئی فرمائی کہ نساء کا سیات عاریات ہوں گی کپڑے پہننے ننگیاں، اس کی وجوہ تفسیر سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کپڑے ایسے تنگ چست ہوں گے کہ بدن کی گولائی فربہی انداز اوپر سے بتائیں گے جیسے بعض لکھنؤ والیوں کی تنگ شلواریں چست کرتیاں۔

 ردالمحتارمیں ہے : فی الذخیرۃ وغیرھا ان کان علی المرا،ۃ ثیاب فلا باس ان یتامل جسدھا اذا لم تکن ثیابھا ملتزقة بھا بحیث نصف ماتحتہا وفی التتبیین قالوا ولا باس بالتأمل فی جسدھا وعلیہا ثیاب مالم یکن ثوب یبین حجمھا فلا ینظر الیه حنیئذ لقوله علیه الصلٰوۃ واسلام من تامل خلف امرأۃ ورأی ثیابھا حتی تبین له حجم عظامھا لم یرح رائحة الجنة ولانه متی کان یصف یکون ناظرا الی اعضائھا. اھ ملخصا۔ذخیرہ وغیرہ میں ہے کہ اگر عورت نے لباس پہن رکھا ہو تو اس کے جسم کو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ لباس اس قدر تنگ اور چست نہ ہو کہ سب کچھ عیاں ہونے لگے۔ التبیین میں ہے کہ ائمہ کرام نے فرمایا جب عورت لباس پہنے ہو تو اس کی طرف دیکھنے میں کچھ حرج نہیں بشرطیکہ لباس ایسا تنگ اور چست نہ ہوجواس کے حجم کو ظاہر کرنے لگے (اگرایسی صورت حال ہو تو پھر اس طرف نہ دیکھا جائے۔ مترجم) حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی کی وجہ سے کہ آپ نے فرمایا کہ جس کسی نے عورت کو پیچھے سے دیکھا اور اس کے لباس پر نظر پڑی یہاں تک کہ اس کی ہڈیوں کا حجم واضح اور ظاہر ہوگیا تو ایسا شخص (جو غیر محرم کو بغور دیکھ کر لطف اندوز ہونے والا ہے) جنت کی خوشبو تک نہ پائیگا اور اس لئے کہ لباس سے انداز قد و قامت ظاہر ہو تو اس لباس کو دیکھنا مخفی اعضاء کو دیکھنے کے مترادف ہے۔ اھ ملخصا ۔( جلد 22 صفحہ 163)۔


واللہ تعالیٰ اعلم

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن :نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور ویسٹ بنگال الہند۔

*11/ رجب المرجب 1442ھ* 

*24/فروری 2021ء *

 *_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_ 

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad