السلام علیکم و رحمت اللّه
کیا فرماتے ہیں علماے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
مرد عورتوں سے افضل ہیں یا نہیں نیز کیا عورتیں کم عقل ہوتی ہیں تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائے
جواب جلد مل جاے تو عین نوازش ہوگی
مجسم رضا مرادآباد
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
ہاں مرد عورتوں سے افضل ہیں اس جہت سے کہ ماہیت مرد رجولیت ماہیت نسوانیت سے اعلیٰ و افضل ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت پر بزرگی دی ہے نبوت خلافت،قضاء حدود میں گواہی، قوت اور مروت اور حصول رزق کے اسباب، جہاد وغیرہ مردوں کو ہی بخشے انہیں کامل عقل کامل دین بنایا، عورتوں کی عقل ناقص رکھی دین میں بھی، تیر اندازی، اور شجاعت و سخاوت اور نکاح کی طلبگاری کا طریقہ، اور طلاق کا حق، وغیرہ قرآن مجید میں ہے : اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّـٰهُ بَعْضَهُـمْ عَلٰى بَعْضٍ " ترجمہ : مرد افسر ہیں عورتوں پر اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی۔( سورہ نساء آیت 34)۔
صحيح البخاري شریف میں ہے : عن ابي سعيد الخدري، قال:" خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم في اضحى او فطر إلى المصلى، فمر على النساء، فقال: يا معشر النساء، تصدقن فإني اريتكن اكثر اهل النار، فقلن: وبم يا رسول الله، قال: تكثرن اللعن، وتكفرن العشير ما رايت من ناقصات عقل ودين اذهب للب الرجل الحازم من إحداكن، قلن: وما نقصان ديننا وعقلنا يا رسول الله؟ قال: اليس شهادة المراة مثل نصف شهادة الرجل؟ قلن: بلى، قال: فذلك من نقصان عقلها، اليس إذا حاضت لم تصل ولم تصم؟ قلن: بلى، قال: فذلك من نقصان دينها" ترجمہ : حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی یا عیدالفطر میں عیدگاہ تشریف لے گئے۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس سے گزرے اور فرمایا اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کرو، کیونکہ میں نے جہنم میں زیادہ تم ہی کو دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! ایسا کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو، باوجود عقل اور دین میں ناقص ہونے کے، میں نے تم سے زیادہ کسی کو بھی ایک عقلمند اور تجربہ کار آدمی کو دیوانہ بنا دینے والا نہیں دیکھا۔ عورتوں نے عرض کی کہ ہمارے دین اور ہماری عقل میں نقصان کیا ہے یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا عورت کی گواہی مرد کی گواہی سے نصف نہیں ہے؟ انہوں نے کہا، جی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس یہی اس کی عقل کا نقصان ہے۔ پھر آپ نے پوچھا کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت حائضہ ہو تو نہ نماز پڑھ سکتی ہے نہ روزہ رکھ سکتی ہے، عورتوں نے کہا ایسا ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی اس کے دین کا نقصان ہے۔( کتاب الحیض، باب ترک الحائض الصوم، صفحہ حدیث نمبر : 304)۔
فتاویٰ رضویہ میں ہے : ہر چند ﷲ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر فضیلت دی،الرجال قوامون علی النساء بمافضل الله بعضھم علی بعض وبما انفقوامن اموالھم۔مرد افسر ہیں عورتوں پر اس لئے کہ ﷲتعالی نے ان میں ایک دوسرے پر فضیلت دی اوراس لئے کہ مردوں نے ان پر مال خرچ کئے۔یہاں تک کہ حدیث میں آیا اگر میں کسی کو کسی کے لئے سجدہ کا حکم کرتا عورت کو حکم دیتا کہ مرد کو سجدہ کرے۔( جلد 12 صفحہ 273)۔
واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن : نل باڑی، سوناپور ہاٹ ،اتردیناجپور، ویسٹ بنگال الہند
*10/ رجب المرجب 1442ھ*
*23/فروری2021ء *
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

