تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Masjid ke darwaze par patti bandhna aur use katna Aur use zayada qimat par baichna kaisa hai? مسجد کے دروازے پر پٹی باندھتا اور اسے کاٹنا اور اسے زیادہ قیمت پر بیچنا کیسا ہے؟؟؟

1

Masjid ke darwaze par patti bandhna aur use katna Aur use zayada qimat par baichna kaisa hai?

سوال______؟؟؟


مسجد کے افتتاح میں دروازے پر پٹی باندھ کر اور پھر اس پٹی کو کیچی سے کاٹ کر افتتاح کیا جاتا ہے____

کیا یہ طریقہ درست ہے________؟؟؟؟

اور 

کچھ جگہوں پر مسجد کے افتتاح پر دروازے پر تالا لگایا جاتا ہے پھر افتتاح کے موقع پر کسی بزرگ کے ہاتھوں تالا کھولا جاتا ہے 

پھر اس تالے کی بولی لگائی جاتی ہے جو ہزاروں سے لاکھوں میں بولی جاتی ہے ( یہ رقم مسجد میں لگائی جاتی ہے ) جو زیادہ بولیگا تالا بطور تبرک لے جائے گا جبکہ تالے کی خریداری مشکل سے ۴۰۰/۵۰۰ کی ہوتی ہے ________

اوپر بیان کردہ طریقہ مسجد کے افتتاح میں درست ہے_______؟؟؟؟


سائل____ذاکر حسین اشرفی احمدآباد گجرات

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

الجواب بعونہ تعالیٰ

صورت مذکورہ میں یہ دنیاوی رسموں میں سے ایک رسم ہے اور یہ جائز ہیں " لعدم المنع الشرعي" ( اس لئے کہ کوئی شرعی منع نہیں۔) مگر بہترین طریقہ یہ ہے کہ جو ہمارے سلف و صالحین نے کئے ہیں سب سے پہلے تلاوت قرآن پاک کی جائے، پھر دیگر کام جو شرع مطہرہ کے خلاف نہ ہو۔فتاویٰ رضویہ میں ہے : پھولوں کا سہرا جیسا سوال میں مذکور رسوم دنیویہ سے ایک رسم ہے جس کی ممانعت شرع مطہر سے ثابت نہیں نہ شرع میں اس کے کرنے کا حکم آیا ہے تو مثل اور تمام عادات و رسوم مباحہ کے مباح رہے گا شرع شریف کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جس چیز کو خدا و رسول اچھا بتائیں وہ اچھی ہے اور جسے برا فرمائیں وہ بری ہے اور جس سے سکوت فرمائیں یعنی شرع سے نہ اس کی خوبی نکلے نہ برائی وہ اباحت اصلیہ پر رہتی ہے کہ اس کے فعل وترک میں ثواب نہ عقاب،( جلد 23 صفحہ 320)۔واللہ تعالیٰ اعلم۔۔

(ا) 

کمیٹی والے کا اس تالہ کی بولی لگانا جائز ہے اور اس سے زیادہ رقم لےکر مسجد میں لگانا بھی جائز ہے۔اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : إِلَّا أَن تَكُونَ تِجَارَةً عَن تَرَاضٍ مِّنكُمْ" ترجمہ: مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضامندی کا ہو (پارہ 5/ سورہ نساء آیت 29)۔رد المحتار میں ہے : لو باع كاغذة بألف يجوز ولا يكره. ترجمہ : اگر کسی نے کاغذ کا ٹکڑا ہزار کے بدلے میں بیچا تو جائز ہے اور وہ مکروہ نہیں۔( ج 7 کتاب الکفالۃ، مطلب بیع العینہ صفحہ 613)۔


واللہ تعالیٰ اعلم

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن : نل باڑی، سوناپورہاٹ،اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

*29/ ربیع الاخر 1442ھ* 

*15/ دسمبر 2020ء*

 *_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_ 

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰


Post a Comment

1 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Top Post Ad

Below Post Ad