تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Razae aolad ko zakat de sakte hain ya nahi____رضاعی اولاد کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں یا نہیں؟

0

Razae aolad ko zakat de sakte hain ya nahi___

 رضاعی اولاد کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں یا نہیں 

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اپنی رضاعی اولاد کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں یا نہیں جواب بحوالہ عنایت فرمائیں 

سائل :محمد عبد العزیز

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالی

اپنی رضاعی اولاد کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں


فتح القدیر میں ہے : ولا يدفع المزكي زكاته الخ الأصل أن كل من انتسب إلي المزكي بولاد أو انتسب هو بهلا يجوز صرفها له ( ج2 کتاب الزکاۃ صفحہ 275)


بحر الرائق میں ہے : وأصله أن علا وفرعه وان سلف وقيد باصله وفرعه لأن من سواهم من القرابة لايجوز الدفع لهم و هو أولي لما فيه من الصلة مع الصدقة كالاخوة والأخوات والاعمام. الخ ترجمہ: اصل وفرع کی قید اس لئے لگائی گئی کہ ان کے علاوہ قریبی رشتہ داروں کو زکوٰۃ دینا جائز ہےاور ان کو زکوٰۃ دینا افضل ہےکہ اس میں صدقہ دینے کے ساتھ صلہ رحمی بھی شامل ہے جیساکہ بھائی اور بہن اور چچا کو زکوٰۃ دینا۔( ج2 کتاب الزکاۃ باب المصرف صفحہ 425)

 

واللہ تعالیٰ اعلم

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

 _کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ_ 

حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن : نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند

*11/ رمضان المبارک 1441ھ* 

*5/ مئ 2020 ء*

 *_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_ 

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰 

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad