تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Janabe bari taala me gustakhi karne wale ka hukme------ جناب باری تعالی میں گستاخی کرنے والے کا حکم؟

0

جناب باری تعالی میں گستاخی کرنے والے کا حکم؟

 جناب باری تعالی میں گستاخی کرنے والے کا حکم؟؟


السلام عليكم ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ 

کیافرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کے زید اور بکر میں پیسوں کی بات پر جھگڑا ہو گیا بکر کے زید پر کچھ پیسے تھے بکر نے کہا مجھے پیسے چاہیے میں نے کہا میرے پاس نہیں ہے بکر نے کہا مجھے ضرورت ہے اس پر زید نے یہ جملے استعمال کیے معاذ اللہ اگر اللہ اوپر سے ہگ دے گا تو میرے پاس آجانا میں پیسے دے دوں گا معاذ اللہ رب العالمین اس جملے کو سن کر بکر نے کہا یہ جملے کفریہ ہے آپ توبہ کرے زید نے کہا اللہ مجھے معاف کرے 

علماۓ کرام کی بارگاہ میں عرض کیا واقعی میں جو زید نے جملے کہے وہ کفریہ ہے تو زید کافر ہوا یہ نہیں 

زید کا اس طرح سے کہنا اے اللہ مجھے معاف فرما اس طرح سے توبہ ہو جائے گی 

زید شادی شدہ ہے اس کو توبہ کیسے کرائی جائے اور اس کا اس کے نکاح کے بارے میں کیا حکم ہے اور اس کے مہر کس طرح بنے اور گواہوں کا کیا حکم ہے تمام علماء کرام بالخصوص مفتی صاحبان اس مسئلہ کو بغور مطالعہ کریں اور جلد از جلد تفصیلی جواب دلیل کی روشنی میں جواب عطا فرمائے


سائل : محمد عبید رضا مرادآباد

اـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وعلیکم السلام ورحمةاللّٰہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالیٰ

ایسا جملہ بولنا کفر اور شدید توہین ہے اللہ تبارک تعالیٰ کی شان یا صفیت میں کوئی ایسا کلمہ بولنا جو اس کے شایان وشان کے لائق نہیں وہ جملہ ادا کرنا کفر ہے ۔


فتاویٰ ہندیہ میں ہے : منها يتعلق بذاته وصفاته وغير ذالك يكفر إذا وصف الله تعالى بما لا يلیق به او سخرباسم من اسمائه۔

ترجمہ : اللہ تعالیٰ کی ذات میں یاصفات کے علاؤہ کوئی ایسا وصف کہنا جو اس کی شان کے لائق نہیں ہے کفر ہے(ج 2 کتاب السیر، باب فی احکام المرتدین،صفحہ 280)


لہٰذا زید پر ضروری ہے کہ توبہ واستغفار کرے اور تجدید ایمان کرے، اور شادی شدہ ہو تو تجدید نکاح بھی اور اگر مرید ہو تجدید بیعت بھی کرے اور وہ توبہ اس طرح کرے اے اللہ جو جملہ مجھے سے ادا ہوا ہے اس سے میں توبہ کرتا ہوں اور آئندہ کبھی بھی اس طرح جملہ استعمال نہیں کروں گا۔تجدید نکاح کا طریقہ یہ ہے۔ تجدید نکاح کا معنی ہے : نئے مہر سے نیا نکاح کرنا ۔

اس کے لئے لوگوں کو ایک کھٹا کرنا ضروری نہیں ہے ۔ نکاح نام ہے ایجاب و قبول کا ۔ ہاں بوقت نکاح بطور گواہ کم از کم دو مرد مسلمان یا ایک مرد مسلمان اور دو مسلمان عورتوں کا حاضر ہونا لازمی ہے۔ اور خطبئہ نکاح مستحب ہے ـ


واللہ تعالیٰ اعلم

اـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

کتبــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی خادم سعدی دارالافتا،متوطن: نل باڑی، سوناپورہاٹ ، اتردیناجپور، بنگال

*🗓 ۲۸ شعبان المعظم ۱۴۴۱؁ھ مطابق ۲۳ اپریل ٠٢٠٢؁ء بروز جمعرات*

*رابطہ* https://wa.me/+918793969359


Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad