السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائےکرام ومفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ ایک بھائی صاحب کی بیٹی کی طبیعت خراب تھی تو انہوں نے منت کی کہ اگر طبیعت ٹھیک ہو جائے گی تو ایک بکری ذبح کر کے بانٹ دونگا اور بکری بھی خرید کر لے آئے اللہ کی مصلحت کہ ان کی بچی کا انتقال ہو گیا اب وہ بھائی کہہ رہے ہیں کہ میں اس بکری کا کیا کروں کیوںکہ بچی تو انتقال کرگی اب مفتیان کرام جواب دیں کہ اس بکری کا کیا کیا جائے
العارض: عبدالکریم رضوی اندور
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
اگر طبیعت صحیح ہو جاتی تو منت کو پوری کرنا ضروری ہوتا۔صورت مذکورہ میں طبیعت صحیح نہیں ہوئی تو منت کو پوری کرنا ضروری نہیں ہے کیونکہ اس نے شرط پر معلق کیا ہے جب شرط نہیں پائی گئی تو اس کا ادا کرنا بھی ضروری نہیں۔ہاں اگر بجا لانا چاہے تو ایصال ثواب کر کے گوشت بانٹ دے۔ اگر ذبح نہ کرے تو بھی کوئی حرج نہیں دوسرے کاموں میں لا سکتے ہیں۔۔
تنویر الابصار، در مختار مع ردالمحتار میں ہے: (ومن نذر نذرا مطلقا أو معلقا بشرط وكان من جنسه واجب ووجد الشرط ) المعلق به ( لزم الناذر ) أي لزمه الوفاء به، والمراد انه يلزمه الوفاء بأصل القربة التي التزمها. لحديث " من نذر وسمي فعليه الوفاء بما سمي" ترجمہ: جس نے مطلق نذر مانی یا شرط کے ساتھ معلق نذر مانی اور اس کی جنس میں سے واجب اور جس شرط کے ساتھ اس نے معلق کیا تھا وہ پائی گئی تو نذر ماننے والے پر اس کو پورا کرنا لازم ہو جائے گا۔ مراد ہوگا کہ قربت کی اصل کی وفا لازم ہوگی جس قربت کو اس نے اپنے اوپر لازم کیا ہے۔ کیونکہ حدیث میں ہے : جس نے نذر مانی اور اس کا ذکر کیا تو اس نے جس امر کا ذکر کیا تو اس پر اس کی وفا لازم ہوگی۔ (ملخصا ج 5 کتاب الایمان صفحہ 516/515)۔۔
فتاویٰ رضویہ میں ہے : یہ کوئی نذر شرعی نہیں، وجوب نہ ہوگا، اور بجا لانا بہتر، ہاں اگر احباب سے مراد خاص معین بعض فقراء و مساکین ہوں تو وجوب ہوجائے گا۔ ( جلد 13 صفحہ 584)۔بہار شریعت جلد دوم میں ہے: اوس کے کرنے کو کسی چیز کے ہونے پر موقوف رکھے مثلاً میرا فلاں کام ہو جائے تو میں روزہ رکھوں گا یا خیرات کروں گا یعنی جس میں کسی شے کے ہونے پر اوس کام کو معلق کیا ہومثلاً اگر میرا لڑکا تندرست ہوجائے یا پردیس سے آجائے یا میں روزگار سے لگ جاؤں تو اتنے روزے رکھوں گا یا اتنا خیرات کروں گا ایسی صورت میں جب شرط پائی گئی یعنی بیمار اچھا ہوگیا یا لڑکا پردیس سے آگیا یا روزگار لگ گیا تو اوتنے روزے رکھنا یا خیرات کرنا ضرور ہے (ملخصا حصہ 9 صفحہ 317 )۔
واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن : نل باڑی، سوناپورہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال الہند
*1/ جمادی الاولی 1442ھ*
*17/ دسمبر 2020ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

