تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Jis shakhas par qaraz ho us par zakat hai ya nahi?? ------ جس شخص پر قرض ہو اس پر زکوٰۃ ہے یا نہیں؟؟

0

Jis shakhas par qaraz ho us par zakat hai ya nahi??

 

جس شخص پر قرض ہو اس پر زکوٰۃ ہے یا نہیں؟؟


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسٔلہ ذیل میں کہ

زید کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا اور اس سے زیادہ بھی ہے لیکن اس کے پاس پیسہ نہیں ہے اور نہ ہی اس کی بیوی کے پاس

مگر زید کے اوپر ڈیڑھ دو لاکھ قرض بھی ہے

اب جواب طلب امر یہ ہے کہ زید پر زکوٰۃ فرض ہوگی یا نہیں اور اگر ہوگی تو کیسے ادا کرے

المستفتی: نوشاد احمد فتحپوری (یوپی)

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالی

صورت مسئولہ میں اگر قرض کی رقم نکالنے کے بعد بھی ان کے پاس ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے باون تولے چاندی یا اتنے پیسے ہیں تو ان پر زکاۃ فرض ہے ورنہ نہیں۔

فتاویٰ رضویہ میں ہے : جس قدر ہوگا اتنا مال مشغول بحالتِ اصلیہ قرار دے کر کالعدم ٹھہرے گا اور باقی پر زکوٰۃ واجب ہوگی اگر قدر نصاب ہو، مثلاًہزار روپے پر حولانِ حول ہو اور اس پر پانسو قرض ہیں تو پانسو پر زکوٰۃ آئے گی اور ساڑھے نوسودین ہے تو اصلاً نہیں کہ باقی قدر نصاب سے کم ہے ۔ درمختار میں ہے:لا زکوٰۃ علی مدیون للعبد بقدر دینه فیزکی الزائد ان بلغ نصابا۔ بندہ کے قرضدار پر قرض کی مقدار پر زکوٰۃ نہیں ، ہاں اگر قرض سے زائد نصاب کو پہنچ جائے تو پھر اس کی زکوٰۃ ادا کرے۔اُسی میں ہے :فارغ عن دین له مطالب من جهة العباد سواء کان ﷲتعالیٰ کزکوٰۃ وخراج او للعبد الخ۔اس دین سے فارغ ہو جس کا مطالبہ بندوں کی طرف سے ہے خواہ وُہ ﷲکے لیے ہو مثلاً زکوٰۃ و خراج یا بندے کے لیے الخ ۔(جلد 10 صفحہ 126)

بہار شریعت جلد اول میں ہے : نصاب کا مالک ہے مگر اس پر دین ہے کہ ادا کرنے کے بعد نصاب نہیں رہتی تو زکوٰۃ واجب نہیں ۔ ( حصہ 5 صفحہ 878)


 واللہ تعالیٰ اعلم

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

_کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ\

حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،  خادم سعدی دار الافتاء ،متوطن: نل باڑی، سوناپور، اتردیناجپور، بنگال

*8/ رمضان المبارک 1441ھ* 

*2/ مئ 2020 ء*

 *_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_ 

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad