تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Agar bis lakh ropiye benk se qaraz liya ho to ghar wale par zakat hai ya nahi...... اگر بیس لاکھ روپیہ بینک سے قرض لیا ہو تو گھر والے پر زکوٰۃ ہے یا نہیں؟

0

Agar bis lakh ropiye  benk se qaraz liya ho to ghar wale par zakat hai ya nahi......

 

‭‮‭‮اگر بیس لاکھ روپیہ بینک سے قرض لیا ہو تو گھر والے پر زکوٰۃ ہے یا نہیں؟

کیا فرماتے ہیں مفتی صاحب مسئلہ ذیل میں کہ بیٹے نے مکان کے لئے قرض لیا ہوا ہے . گھر ماں باپ بہن .بیوی. ساتھ رہتے ہیں. ماں کے پاس کچھ سونا ہے بیٹی مطلقہ ہے اسکے پاس 8تولہ سونا ہے والد کے پاس کیش ہے .ابھی 20 لاکھ. روپیہ بینک قرض باقی ہے. بیٹا اور باپ قرض ادا کرتے ہیں. تو کیا ماں. باپ اور بہن پر زکوة واجب ہوگی جواب سے نوازیں

محمد طلحہ ممبئ
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
قرض کی جس قدر اقساط باقی ہوں وہ کل رقم میں سے نکالی جائیں گی ان کو نکالنے کے بعد اگر مال بقدر نصاب باقی بچتا ہو تو زکوٰۃ واجب ہوگی ورنہ نہیں۔ مگر قرض کے رقم کے علاوہ جو سود دینا پڑتا ہے وہ قرض میں شامل نہیں ہوگا یعنی اسے( مائنس) نہیں کیا جائے گا اور بلا ضرورت شرعی سودی قرض لینا بھی حرام ہے اس سے توبہ بھی واجب ہے۔حاشیہ طحطاوی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں ہے : ( فارغ عن الدين ) أي الذي مطالب من جهة العباد سواء كان الله كزكوة و خراج، أو للعبد ( کتاب الزکاۃ صفحہ 714) فتاویٰ ہندیہ میں ہے: ( ومنها الفارغ عن الدين ) قال أصحابنا رحمهم الله تعالى كل دين له مطالب من جهة العباد يمنع وجوب الزكاة سواء كان الدين للعباد كالقرض الخ ( ج1 کتاب الزکاۃ،الباب الاول فی تفسیرھا الخ صفحہ 173)
درمختار میں ہے:لا زکوٰۃ علی مدیون للعبد بقدر دینه فیزکی الزائد ان بلغ نصابا۔ بندہ کے قرضدار پر قرض کی مقدار پر زکوٰۃ نہیں ، ہاں اگر قرض سے زائد نصاب کو پہنچ جائے تو پھر اس کی زکوٰۃ ادا کرے( ج 3 کتاب الزکاۃ صفحہ 176)اُسی میں ہے :فارغ عن دین له مطالب من جهة العباد سواء کان ﷲ تعالیٰ کزکوٰۃ وخراج او للعبد الخ۔اس دین سے فارغ ہو جس کا مطالبہ بندوں کی طرف سے ہے خواہ وُہ ﷲکے لیے ہو مثلاً زکوٰۃ و خراج یا بندے کے لیے الخ ۔ ( ج 3 کتاب الزکاۃ صفحہ 176)فتاویٰ رضویہ میں ہے : دین جس قدر ہوگا اتنا مال مشغول بحالتِ اصلیہ قرار دے کر کالعدم ٹھہرے گا اور باقی پر زکوٰۃ واجب ہوگی اگر بقدر نصاب ہو، مثلاً ہزار روپے پر حولانِ حول ہو اور اس پر پانسو قرض ہیں تو پانسو پر زکوٰۃ آئے گی اور ساڑھے نوسو دین ہے تو اصلاً نہیں کہ باقی قدر نصاب سے کم ہے ( جلد 10 صفحہ 126)بہار شریعت جلد اول میں ہے : نصاب کا مالک ہے مگر اس پر دین ہے کہ ادا کرنے کے بعد نصاب نہیں رہتی تو زکوٰۃ واجب نہیں ۔ ( حصہ 5 صفحہ 878)

واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
 _کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ_ 
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی ،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال الہند
*5/ رجب المرجب 1442ھ*
*18/فروری2021ء *
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad