السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسٔلہ ذیل کے بارے چند ماہ قبل ایک لڑکی کا نکاح ہوا اور اس کے کچھ ماہ بعد لڑکے کا انتقال ہوگیا یاد رہے کہ صرف نکاح ہوا تھا رخصتی نہیں تو لڑکی کو لڑکے کے وراثت سے کچھ ملےگا یا نہیں برائے کرم مدلل جواب عنایت فرماں کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی
سائل:محمد کونین رضا بنگال
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالی
ہاں منکوحہ کو وراثت ملےگی اور نکاح میں رہتے ہوئے شوہر کا انتقال ہونے سے بیوی کو وراثت ملے گی رخصتی نہ ہونا مانع وراثت نہیں۔ شوہر کی وراثت سے ملے گی۔
قرآن مجید میں ہے : وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍؕ ۔اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں جو وصیت تم کر جاؤ اور دَین نکال کر۔ ( پارہ 4 سورہ نساء آیت 11/12 )
السراجیۃ میں ہے : أما للزوجات فحالتان . الربع للواحدة فصاعدا عند عدم الولد و ولد الابن و أن سفل و الثمن مع الولد او ولد الابن و أن سفل. ( صفحہ21)۔
واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، بنگال۔
*22/ شعبان المعظم1441ھ*
*17/ اپریل 2020 ء *
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰


ماشاءاللہ آپکا جواب ، لاجواب پایا آپکا مخلص محمد نجم الدین جنر پونے سے
ReplyDelete