السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسلہؑ میں
اگر کسی کے پاس صرف 4 تولہ سونا اور 10 تولہ چاندی ہو تو کیا ان کے اوپر زکات واجب ہے
اور اگر زکات واجب ہے تو زکات نکالنے کا طریقہ کیا ہو گا مفصل جواب عنایت فرمائیں
سائل: محمد غلام ربانی رضوی داونگیرہ کرناٹکا انڈیا
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالی
جس کے پاس حاجت اصلیہ سے زائد 4 تولہ سونا اور 10 تولہ چاندی ہو اوراس پر سال بھی گزر چکا ہو خواہ سونا چاندی تنہا نصاب ہو یا سونا چاندی ملا کر ساڑھے باون تولہ چاندی ہو جائیں اور چاندی کے حساب سے دیکھیں تو نصاب بن جاتا ہے۔تو آپ مالک نصاب ہیں اور اپ پر زکوٰۃ واجب ہے ورنہ نہیں ۔اگر چہ علیحدہ علیحدہ دیکھیں تو سونا چاندی میں سے کسی کا نصاب مکمل نہیں۔
ہدایہ میں ہے :تضم قیمة العروض الی الذھب و الفضة حتی یتم النصاب و یضم الذھب الی الفضة للمجانسة من حیث الثمیة ومن ھذا الوجہ صار سببا ثم یضم با لقیمة عند ابی حنیفة رضی ﷲ تعالی عنہ۔یعنی سامان کی قیمت کو سونے اور چاندی کی قیمت کےساتھ ملایا جائے گا تاکہ نصاب مکمل ہوجائے اور ثمن کی بنا پر ہم جنس ہونے کی وجہ سے سونے کو چاندی کے ساتھ ملایا جائے گا اور اسی وجہ سے یہ سببِ وجوب ہوگا پھر امام ابو حنیفہ رضی ﷲ تعالی عنہ کے نزدیک قیمت کے لحاظ سے ملایا جائے گا۔ (ج1 کتاب الزکوٰۃ، فصل فی العروض صفحہ 174)۔
فتح القدیر میں ہے : النقدان یضم احد ھما الی الاٰخر فی تکمیل النصاب عندنا۔ترجمہ : ہمارے نزدیک تکمیل نصاب کے لیے دونوں نقود (سونے و چاندی ) کو ایک دوسرے کے ساتھ ملایا جائے گا۔( ج2فتح القدیر فصل فی العروض صفحہ 169)۔
تبیین الحقائق میں ہے: یضم الذھب الی الفقة بالقیمة فیکمل به النصاب لان الکل جنس واحد ۔ ترجمہ: سونے کو چاندی کے ساتھ قیمت کے اعتبار سے ملایا جائیگا تاکہ نصاب مکمل ہوجائے کیونکہ یہ آپس میں ہم جنس ہیں (ج1باب زکوٰۃ المال صفحہ 281)۔
واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن : نل باری سوناپور اتردیناجپور ویسٹ بنگال الہند
*17/ رمضان المبارک 1441ھ*
*11/ مئی 2019ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

