السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں ہم نے ایک زمین بیچا جس کی قیمت 18 لاکھ روپے یہ زمین دو ڈھائی مہینے میں بیچا ہے اور یہ زمین ہم نے تقریبا دس سال پہلے خریدا تھا فیچر کے لیے زمین اس لیے بھیجا گیا ہے کہ دو بہن کی شادی کرنا ہے پانچ چھ مہینے بعد شادی ہے اور گھر میں سونا چاندی ہے اس پر زکات فرض ہے دریافت طلب امر یہ ہے جو زمین ہم نے بیچا اٹھارہ لاکھ کے اس پر بھی زکوٰۃ فرض ہوگی یا نہیں۔
سائل : منور رضا حنفی
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : جو شادی کے لئے 18 لاکھ روپیے رکھا ہے اس پر زکوٰۃ واجب ہے جبکہ اس پر سال گزر چکا ہو ورنہ نہیں۔ رد المحتار میں ہے : اذا امسكه لينفق منه كل ما يحتاجه فحال الحول وقد بقي معه منه نصاب فإنه يزكي ذلك الباقي، وان كان قصده الانفاق منه أيضا في المستقبل لعدم استحقاق صرفه الي حوائجه الأصلية وقت حولان الحول بخلاف ما إذا حال الحول وهو مستحق الصرف إليها" یعنی جب مال اس نیت سے روکے رکھا کہ جو حاجت ہوگی اس میں خرچ کروں گا پھر اس پر سال گزر گیا اور اس کے پاس اس میں سے نصاب باقی ہے تو اس باقی کی زکوٰۃ دے گا اگر چہ اس کو مستقبل میں خرچ کرنے کی نیت ہو، کیونکہ سال گزر کے وقت حاجت اصلیہ میں صرف کرنے کا اس کو استحقاق حاصل نہیں ہے، بر خلاف اس کے کہ جب سال پورا ہونے کے وقت اس مال کو حاجت اصلیہ میں خرچ کرنے کی ضرورت ہو۔(ج 3مطلب فی زکاۃ ثمن المبیع وفاء صفحہ 179)۔
بہار شریعت جلد اول میں ہے: حاجتِ اصلیہ میں خرچ کرنے کے روپے رکھے ہیں تو سال میں جو کچھ خرچ کیا اور جو باقی رہے اگر بقدر نصاب ہیں تو ان کی زکاۃ واجب ہے، اگر چہ اسی نیّت سے رکھے ہیں کہ آئندہ حاجتِ اصلیہ ہی میں صَرف ہوں گے اور اگر سال تمام کے وقت حاجتِ اصلیہ میں خرچ کرنے کی ضرورت ہے تو زکاۃ واجب نہیں۔(حصہ 5 صفحہ 884)
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
_کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ_
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی، خادم سعدی دار الافتاء ،متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند۔
*5/ رمضان المبارک 1442ھ*
*18/ اپریل 2021ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

