السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
مسلہ یہ ہے کہ امام صاحب نماز پڑھا رہے ہیں اور قرأت میں بھول ہوئی اور کسی نے لقمہ دیا اور لقمہ لے بھی لیا تو کیا اس صورت میں سجدہ سہو واجب ہے حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں کیا نماز میں بھولنے سےسجدہ سہو واجب ہے یا ترک واجب سےاور یہ بھی واضح کریں کے اگر تین آیت سے کم میں یعنی دو آیت میں لقمہ دیا تو کیا حکم ہے
سائل : مولانا عرفان رضوی
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالی
امام جہاں غلطی کرے مقتدی کو جائز ہے کہ اسے لقمہ دے اگر چہ تین آیتوں سے کم یا ہزار آیتیں پڑھ چکا ہو۔
درمختار مع ردالمحتار میں ہے : فتحه علی امامه أنه لایفسد مطلقا بفاتح وآخذ بکل حال الخ۔ای سواء قرأ الامام قدر مایجوز به الصلوۃ ام لا انتقل الی ایت اخری ام لا تکرر ام لا ھو الاصح نھر۔(ج 2باب ما یفسد الصلوۃ وما یکرہ فیہا صفحہ 382)۔
لہٰذا لقمہ لینے سے سجدہ سہو کی کوئی حاجت نہیں ہاں سجدہ سہو اس وقت واجب ہے جبکہ اس نے بھولا اور تین بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار چپ رہا یا ادائے رکن واجبات میں کمی وزیادتی ہو۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے : ولا يجب السجود الا بترك واجب أو تأخيره أو تأخير ركن أو تقديمه أو تكراره أو تغيير واجب بأن يجهر فيما۔ (ج1 الباب الثانی عشر فی سجود السہو صفحہ 126)۔
ہدایہ میں ہے:ويسجود للسهو فى الزيادة والنقصان سجدتين بعد سلام ،قال يلزمه السهو اذا زاد فى صلاته فعلا من جنسها ليس منها وهذا يدل على ان سجدة السهو واجبة هو الصحيح لأنها تجب لجبر النقص تمكن فى العبادة فتكون واجبة ۔( ج1 باب سجود السہو صفحہ 451 )۔
فتاویٰ رضویہ میں ہے: امام جب نماز یا قرأت میں غلطی کرے تو اسے بتانا لقمہ دینا مطلقاً جائزہے خواہ نماز فرض ہو یا واجب یا تراویح یا نفل، اور اس میں سجدہ سہو کی بھی کچھ حاجت نہیں، ہاں اگربھولا اور تین بار سبحٰن اﷲ کہنے کی دیر چپکاکھڑا رہا توسجدہ سہو آئے گا۔ ( جلد 7 صفحہ 288)۔
واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن : نل باڑی، سوناپورہاٹ، اتردیناجپور بنگال۔
*9/ شوال المکرم 1441ھ*
*2/ جون 2020 ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

