السلام علیکم _کیا فرماتے ہے مفتیان کرام اس مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید تراویح کی نماز پڑھا رہے تھے اور بکر نماز پڑھتے تھے تو بیچ میں بکر کو استنجاء کی ضرورت پر گیا تو اس کی تراویح کی چند رکعتیں چھوٹ گئی تو اب وہ پہلے کیا کرینگے امام کے ساتھ وتر کی نماز ادا کرینگے یا چھوٹی ہوئی نماز ادا کرینگے جواب عنایت فرمائیں بحوالہ۔
سائل : محمد غلام جیلانی بغدادی عارفی کشنگنجوی (بہاری)
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
صورت مسئولہ میں اگر وہ فرض نماز باجماعت پڑھی ہو تو وہ امام کے ساتھ وتر کی نماز باجماعت پڑھ سکتا ہے پھر باقی تراویح کی چھوٹی ہوئی رکعتیں پڑھ لے،اور یہ افضل ہے،اگر وہ چاہئے تو تراویح پوری کرکے وتر تنہا بھی پڑھ سکتا ہے یہ بھی جائز ہے۔در مختار میں ہے :( ووقتها بعد صلاة العشاء ) إلي الفجر( قبل الوتر بعده ) في الأصح، فلو فاته بعضها وقام الإمام إلي الوتر أوتر معه ثم صلي ما فاته" ( ج 2/ کتاب الصلاۃ، باب الوتر والنوافل، صفحہ 494/494)۔فتاویٰ ہندیہ میں ہے: والصحيح أن وقتها ما بعد العشاء إلي طلوع الفجر قبل الوتر وبعده" (ج1/ کتاب الصلاۃ، الباب التاسع في النوافل، فصل في التراویح، صفحہ 115)
بہار شریعت جلد اول میں ہے:اس کا وقت فرض عشا کے بعد سے طلوع فجر تک ہے وتر سے پہلے بھی ہو سکتی ہے اور بعد بھی تو اگر کچھ رکعتیں اس کی باقی رہ گئیں کہ امام وتر کو کھڑا ہوگیا تو امام کے ساتھ وتر پڑھ لے پھر باقی ادا کرلے جب کہ فرض جماعت سے پڑھے ہوں اور یہ افضل ہے اوراگر تراویح پوری کرکے وتر تنہا پڑھے تو بھی جائز ہے۔ (تراویح کا بیان،حصہ چہارم، صفحہ 689)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند۔
*10/ رمضان المبارک 1442ھ*
*23/ اپریل 2021ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

