چندہ سے دار الافتاء چلانا کیسا ہے؟
﷽محترم مفتی صاحب السلام عليكم ورحمۃاللہ وبرکاتہ امید قوی ذات باری تعالیٰ سے آپ خیریت سے ہونگے عرض ہے کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کیا جمعہ کے عطیہ اور محلے کا مہانہ چندہ سے کسی دار الافتاء کے مفتی صاحب کو تنخواہ دے سکتے ہے یا نہیں جبکہ مفتی صاحب سائل کے مسائل سے اپنا محنتانہ وصولتے ہے مفتی صاحب نا ھی مسجد کے خطیب ہے نا ہی امام ہے البتہ دارالافتاء حدود مسجد میں ھے مسجد کے آراکین کے ماتحت ھے ؟بحوالہ تشفی بخش جواب عنایت فرمائیں ۔
محمد اورنگ زیب رضوی جوگیشوری مشرق ممبیء نمبر۴۰۰۰۶
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الـجــــوابــــــــــــ بعون الملک الوھاب
عموماً جو مسجد میں چندہ دیتے ہیں وہ سب چندہ تمام کار خیر میں استعمال کرنے کے لئے دیتے ہیں اور مسجد کے آراکین کے ماتحت دار الافتاء کا چلانا بھی کار خیر ہے اور مفتی صاحب کا اس سے اپنا مقرر تنخواہ لینا بھی جائز ہے۔ ہاں اگر چندہ دینے والے صراحتاً کہہ دیا ہوں کہ میں صرف مسجد ہی کے لئے دیتا ہوں تو دوسرے کاموں میں استعمال کرنا جائز نہیں۔ کیونکہ وہ چندہ وقف ہے اور وقف کو بدلنا جائز نہیں۔فتاویٰ ہندیہ میں ہے : لا يجوز تغيير الوقف عن هيئته۔ترجمہ :وقف کو تغییر کرنا جائز نہیں ہے اس کی صورت سے۔ ( 2 ج الباب الرابع عشر فی المتفرقات صفحہ 490)۔
فتاویٰ رضویہ میں ہے: وقف جس غرض کے لئے ہے اس کی آمدنی اگر چہ اس کے صرف سے فاضل ہو دوسری غرض میں صرف کرنی حرام ہے وقف مسجد کی آمدنی مدرسہ میں ہونی درکنار دوسری مسجد میں بھی صرف نہیں ہوسکتی نہ ایک مدرسہ کی آمدنی مسجد یا دوسرے مدرسہ میں۔( ج 16کتاب الوقف مصارف وقف صفحہ 205/206 )۔۔
واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سوناپور، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند۔
*18/ ربیع الاخر 1442ھ*
*4/ دسمبر 2020ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

