تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Jo bachhe madarse me takhir se puhnchte hain usse let fis lina kaisa hai ____ جو بچے مدرسے میں تاخیر سے پہونچتے ہیں اس سے لیٹ فیس لینا کیسا ہے؟؟؟

0

Jo bachhe madarse me takhir se puhnchte hain usse let fis lina kaisa hai

جو بچے مدرسے میں تاخیر سے پہونچتے ہیں اس سے لیٹ فیس لینا کیسا ہے؟؟؟


السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 


کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان کرام اس مسئلہ کہ بارے ميں بعض مدارس میں چھٹی کے ایام میں بچے تاخیر سے مدرسے میں آتے ہیں جو چھٹی دی جاتی ہے اس کے علاوہ لیٹ آتے ہیں تو اس سے فائن لیا جاتا ہے ایسا کرنا کیسا ہے 

سائل : مُنور رضا حنفی

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

الجواب بعونہ تعالی

 کسی بھی جرم کی سزا میں فائن ( جرمانہ ) وصول کرنا ناجائز و گناہ ہے کیونکہ مالی جرمانہ منسوخ ہوگیا اور منسوخ پر عمل حرام ہے لہذا طلباء سے لیٹ فیس لینا ناجائز و گناہ ہے ہاں کچھ مدت تک اس کی اصلاح کے لئے مدرس لیٹ فیس لیکر اپنے پاس رکھ لے جب وہ باز آجائے ،پھر مدرس وہ لیٹ فیس اس کو لوٹا دے۔البتہ تادیبی کاروائی کے طور پر کچھ دن ان کا کھانا بند کردیں پھر اگر وہ مدر سہ میں کھانا چاہیں تو کھانے کا عوض لیا جا سکتا ہے اور اگر طالب علم شروع سے ہی معاوضئہ خوراک دے کر کھاتا تھا تو اسکے معاوضئہ خوراک میں زیادہ بھی کر سکتے ہیں یا کوئی دوسری تادیبی کاروائی کی جائے کہ معاوضئہ خوراک لینے میں اس معاملہ کا لحاظ ضروری ہوگا کہ معاوضئہ خوراک وہی لیا جائے جو واقع میں معاوضہ ہوتا ہو اس سے زائد نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :" وَلاَ تَأْكُلُوْا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ " ترجمہ: آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔( سورہ بقرہ آیت 188)ردالمحتار میں ہے : افاد فی البزازیة ان معنی التعزیر باخذ المال علی القول به امساک شیئ من ماله منه مدۃ لینزجر ثم یعیدہ الحاکم الیه لا ان یاخذہ الحاکم لنفسه أو بیت المال کما یتوھمه الظلمة اذا لایجوز لاحد من المسلمین اخذ مال احد بغیر سبب شرعی وفی شرح الآثار (اللامام الطحاوی رحمہ ﷲ تعالي) التعزیر بالمال کان فی ابتداء الاسلام ثم نسخ" ترجمہ : فتاوٰی بزازیہ میں یہ افادہ پیش فرمایا کہ مال لے کر تعزیر قائم کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ مجرم کے مال میں سے کچھ مدت کے لئے مال حاکم اپنے پاس رکھ لے تاکہ وہ جرائم سے باز آجائے ۔ پھر سدھر جانے پر حاکم وہ مال اس کولوٹا دے یہ مطلب نہیں کہ حاکم اپنی ذات کے لئے یا بیت المال کے لئے مال جرمانہ اس سے وصول کرے جیسا کہ بعض ظالموں نے وہم کیا ہے کیونکہ مسلمانوں میں سے کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ بغیر کسی سبب شرعی کے کسی کا مال حاصل کرے، اور شرح آثار امام طحاوی رحمہ اللہ تعالیٰ میں ہے کہ مالی تعزیر شروع اسلام میں تھی پھر منسوخ ہوگئی۔(ج 6 کتاب الحدود، باب التعزیر، صفحہ 77 )۔

واللہ تعالیٰ اعلم

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت علامہ مولانا مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند

*13/ شعبان المعظم 1442ھ* 

*27/ مارچ 2021ء*

 *_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_ 

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰



Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad