السلام علیکم ورحمتہ اللہ برکاتہ
کیافرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام کہ زید کی شادی ہندہ سےہوئی اور انکی اہلیہ ہندہ کچھ سال کے بعد انتقال کرگئی اور زید اپنی اہلیہ ہندہ کو نہ تو دین مہر ادا کیا نہ ہی ہندہ سے معاف کروایا اور اب زید چاہتا ہےکہ جو رقم دین مہرکا ہے میں اُسے ادا کروں تو علماۓکرام سے دریافت ہیکہ دین مہرکا ان پیسوں کو کسی دینی ادارے میں یا کسی مسکین کو دیا جائے قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت کریں
سائل: محمد فاروق احمد اندور ایم پی
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
کل مہر مسمی زید پر ادا کرنا لازم ہے اور مہر کا حقدار ان کے وارثین ہیں اگر اس کے بالغ وارثین اجازت دے دیں تو اس کے نام سے ایصالِ ثواب کرے یا سنی صحیح العقیدہ علومِ دینیہ مدارس میں صرف کرے، ورنہ وراثین اپنی میراث کا حقدار ہیں اگر زید کی اولاد نہ ہو تو زید کو نصف حصہ، اگر ہوں تو چوتھائی حصہ کا خود وارث ہے، بقیہ دیگر ورثاء۔ ملتقی الابحر شرح مجمع الانہر میں ہے : للولی انکح الصغیرہ والصغیرۃ فان مات احدھما ورثہ الاٰ خر بلغا اولا ویجب المہر کلہ وان مات قبل الدخول" ترجمہ : ولی کو نابالغہ لڑکے اور لڑکی کے نکاح کردینے کا اختیار ہے۔پھر اگر دونوں میاں بیوی میں سے کوئی فوت ہوجائے تو دوسرا وارث ہوگا اور پورا مہر واجب ہوگا بالغ ہوں یا نابالغ، اگر چہ وہ دخول سے قبل ہی فوت ہوگیا ہو۔(ج1/ باب الاولیاء والاکفاء، صفحہ 325)۔فتاویٰ رضویہ میں ہے : وارثانِ زن میں جو عاقل بالغ معاف کرے گا اُس کا حصّہ معاف ہوجائے گا اگر سب عاقل بالغ ہوں اور سب معاف کردیں تو سب معاف ہوجائے گا۔ ( جلد 12/ صفحہ 177)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند۔
*17/ شوال المکرم 1442ھ*
*30/ مئ 2021ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

