کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ
ایک شخص کا انتقال ہوا اس نے ایک بیوی ایک بیٹا اور نو بیٹیاں چھوڑی ہیں اور ایک بیٹی کی شادی ابھی باقی ہے کتنا کتنا وراثت میں حصہ ہوگا
سائل بندئہ خدا
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
الجواب بعونہ تعالی
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
مال متروکہ سے تجہیز و تکفین کے بعد اور قرض ادا کرنے کے بعد اور اگر میت نے کوئی وصیت کی ہو تو ثلث مال سے وصیت مکمل کرنے کے بعد پھر مابقیہ مال منقولہ یا غیر منقولہ جائداد کوسارے وارثوں میں تقسیم کردیں۔تو پورے جائداد کو اٹھاسی (88) حصے کئے جائیں گے، بیوی کو گیارہ (11) حصے،ایک بیٹا کو چودہ ( 14) حصے، نو بیٹیوں کو ترسٹھ حصے، یعنی ہر ایک بیٹی کو سات سات کر کے حصے ملینگے۔ بلفظ دیگر 12.50/فیصد بیوی کو، 71.59/ فیصد نو بیٹیوں کو،یعنی ہر ایک بیٹی کو 7.95/ فیصد کر کے،15.91/ فیصد بیٹا کو ملے گا۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :وَلَـهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْـتُـمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّكُمْ وَلَـدٌ ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَـدٌ فَلَـهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَـرَكْـتُـمْ ۚ مِّنْ بَعْدِ وَصِيَّـةٍ تُوْصُوْنَ بِـهَآ اَوْ دَيْنٍ. ترجمہ: اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں جو وصیت تم کر جاؤ اور دین نکال کر،(پارہ4 سورہ نساء آیت12)۔دوسری جگہ ہے : يُوْصِيْكُمُ اللّـٰهُ فِىٓ اَوْلَادِكُمْ لِلـذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ. ترجمہ: بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ۔(پارہ4سورہ نساء آیت11)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند۔
*18/ شوال المکرم 1442ھ*
*31/ مئ 2021ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

