السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ صدقہ، زکات، فطرہ کا پیسہ مدارسہ مسجد کے نام پر لیتا ہے مگر خود کھا لیتا ہے شریعت میں اس کا کیا حکم ہے جواب عنایت فرمائیں، بہت مہربانی ہوگی۔
محمد شاکر رضا بھیونڈی
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
الجواب بعونہ تعالیٰ
صورت مسئولہ میں صدقئہ واجبہ، زکات، فطرہ کا پیسہ حیلئہ شرعی کے بغیر مسجد ومدرسہ میں لگانا جائز نہیں،یا خود پیسہ کو کھالینا جائز نہیں، اورصدقئہ واجبہ، زکات، فطرہ دینے والوں کی زکوٰۃ وفطرہ بھی ادا نہیں ہوگی،اس پر لازم ہے کہ ان تمام روپیوں کا تاوان دے ورنہ سخت گناہگار ہوگا۔ اگر وہ شخص حیلئہ شرعی کے یا حیلئہ شرعی کے بغیر اس پیسے کو خود کھا لیتا ہے تو یہ بھی امانت میں خیانت ہے جو اشد اشد حرام ہے۔قرآن پاک میں ہے: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ" ترجمہ: ﷲ (عزوجل) حکم فرماتا ہے کہ امانت جس کی ہو اُسے دے دو۔( سورہ نساء آیت 58)۔دوسری جگہ ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ" ترجمہ:اے ایمان والو ﷲ ورسول کی خیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں جان بوجھ کر خیانت کرو۔ ( سورہ أنفال آیت 27)۔فتاویٰ رضویہ میں ہے: کسی کی امانت اپنے صرف میں لانا اگرچہ قرض سمجھ کر ہو حرام وخیانت ہے توبہ واستغفار فرض ہےاور تاوان لازم پھر دے دینے سے تاوان اداہوگیا، وہ گناہ نہ مٹا جب تک توبہ نہ کرے۔( جلد 16 صفحہ 489/488)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
_کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ_
حضرت علامہ مولانا مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند
*24/ رمضان المبارک 1442ھ*
*7/ مئ 2021ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

