السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
علمائے کرام ومفتیان عظام کی بارگاہ میں عرض ہے کہ اگر مسجد کی اینٹ بچی ہوئی ہے اور اسے کسی کام کی ضرورت نہیں ہے تو اسے بیچ کر مسجد کی کام میں لگا سکتے ہیں یا نہیں جواب عنایت فرمائیں حوالہ کے ساتھ مہر بانی ہو گی
سائل محمد رضاءالحق
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمةاللّٰہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
صورت مسئولہ میں مسجد کی اینٹ کو ضروریات مسجد کے لئے محفوظ رکھی جائیں۔
ہاں اگر دقت ہوتو بیچ کر قیمت خاص تعمیر ومرمت مسجد کے لئے محفوظ رکھیں۔
فتاویٰ رضویہ میں ہے: وہ شخص واپس نہیں لے سکتا جبکہ مسجد کے لئے مہتممان مسجد کو سپرد کرچکا ہو بلکہ وہ اشیاء حاجت مسجد کےلئے محفوظ رکھی جائیں اور اس میں دقت ہوتو بیچ کر قیمت خاص تعمیر ومرمت مسجد کے لئے محفوظ رکھیں۔ تیل، بتی، لوٹے، چٹائی میں اسے صرف نہیں کرسکتا۔اسعاف پھر
بحرالرائق پھر عالمگیریہ میں ہے : لو ان قوما بنوامسجدا و فضل من خشبھم شیئ قالوا یصرف الفاضل فی بناءہ ولایصرف الی الدھن والحصیر ھذا اذا اسلموا الی المتولی لیبنی به المسجد والا یکون الفاضل لھم یصنعون به ماشاؤا۔
ترجمہ اگر ایک قوم نے مسجد بنائی اور اس کی لکڑیوں میں سے کچھ بچ گئیں۔ مشائخ فرماتے ہیں ان کو مسجد کی تعمیر میں ہی صرف کیاجائے گا، مسجد کے لئے تیل اور چٹائی میں صرف نہیں کرسکتے، یہ اس وقت ہے جب انہوں نے متولی کے سپردکردیا ہو کہ وہ اس سے مسجد بنوائے اگر سپرد نہیں کیا تو وہ انہی کا ہے جو چاہیں اس کے ساتھ کریں۔( جلد 16 صفحہ 488)
واللہ تعالیٰ اعلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کتبــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن : نل باڑی، سوناپور، اتردیناجپور، بنگال
🗓 ۲۸ شعبان المعظم ۱۴۴۱ھ مطابق ۲۳ اپریل ٠٢٠٢ء بروز جمعرات
https://wa.me/+918793969359

